ڈنمارک کے فوجی اڈے پر پراسرار ڈرونز، ہوائی اڈے عارضی طور پر بند
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
— ڈنمارک کے سب سے بڑے فوجی اڈے’’کاروپ‘‘ کے اوپر نامعلوم ڈرونز کی پرواز نے سیکیورٹی حکام کو چوکنا کر دیا ہے، جبکہ اس واقعے کے بعد کئی ہوائی اڈوں کو احتیاطاً عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق، یہ ڈرونز پیر کی شب پہلی بار دیکھے گئے تھے اور تازہ مشاہدہ جمعرات کو رات 8:15 بجے (پاکستانی وقت رات 11:15) ہوا، جب ایک یا دو نامعلوم ڈرونز فوجی اڈے کے اوپر پرواز کرتے دیکھے گئے۔
ڈیوٹی افسر سائمن اسکیلسیئر کا کہنا ہے کہ ڈرونز کو نہ تو گرایا جا سکا اور نہ ہی ان کی اصل جگہ یا کنٹرول کا پتہ چل پایا ہے۔ پولیس اور فوج مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہے ہیں۔
کاروپ اڈے کی رن وے سول ایئرپورٹ ’’مڈجائلینڈ‘‘ کے ساتھ مشترکہ ہے، جسے عارضی طور پر بند کر دیا گیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی تجارتی پرواز متاثر نہیں ہوئی۔
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے حالیہ واقعات کو’’ہائبرڈ حملوں‘‘ کا تسلسل قرار دیا ہے — ایسی کارروائیاں جو بظاہر جنگی نہیں ہوتیں، مگر سیکیورٹی اور اعتماد کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یورپ کو اب ان غیر روایتی حملوں کو ایک نئی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا، جہاں دشمن اکثر غیر مرئی ہوتا ہے، اور نیت صرف نقصان نہیں بلکہ خوف اور بے یقینی پھیلانا ہوتی ہے۔
اگرچہ انہوں نے براہِ راست کسی ملک، خاص طور پر روس کا نام نہیں لیا، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایسا ممکنہ طور پر ثبوتوں کی کمی یا سفارتی نرمی کی وجہ سے کیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد صرف نظام میں خلل ڈالنا نہیں بلکہ عوام کا اپنی حکومتوں پر اعتماد متزلزل کرنا بھی ہے — اور یہی خطرہ اس وقت پورے یورپ کے سر پر منڈلا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔