روسی تنصیبات پر حملوں میں امریکی حمایت حاصل ہے‘ یوکرین کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں امریکا کی جانب سے نئی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی توانائی کے اہداف اور اسلحہ ساز فیکٹریوں کے خلاف جوابی حملے کرنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی حمایت کرتے ہیں۔ نیوز سائٹ ایکسوز نے زیلنسکی کا انٹرویو جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ یوکرینی فوج امریکا سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے مزید ہتھیاروں کے حصول کی خواہاں ہیں، اور اگر یہ اسلحہ انہیں مل گیا تو اسے استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو میں رہنماؤں کو اسے ایک انتباہ سمجھنا چاہیے۔ زیلنسکی نے کہاکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی پناہ گاہیں کہاں ہیں۔ اگر وہ جنگ بند نہیں کریں گے، تو انہیں ہر حال میں اِن کی ضرورت پڑے گی ۔ یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ ان کی افواج روسی شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گی کیونکہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں ایک اشارہ بھی دیا اور کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے بعد صدر کے عہدے سے الگ ہونے کو تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔