ماضی کے مقبول فلمی ہیرو سعود نے بتایا کہ ان کی اہلیہ جویریہ سعود نے اداکاراؤں کو گود میں اٹھانے پر ان سے شکوہ کیا تھا۔

سعود نے حال ہی میں ’365 نیوز‘ کے پروگرام میں شرکت کی اور مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ فلم کی اداکاری اور ٹی وی کی اداکاری میں بہت فرق ہے، فلم میں کام جلدی کیا جاتا ہے، جب کہ ٹی وی ڈراموں میں ایک ڈائیلاگ بولنے میں بھی بہت وقت لگ جاتا ہے۔

اداکار نے ماضی کے فلمی دور کے چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اُس وقت فلم کی شوٹنگ کے دوران آواز ڈب نہیں کی جاتی تھی بلکہ بعد میں ڈبنگ کرنا پڑتی تھی، جو ایک مشکل عمل ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریمبو، بابر علی اور شان سمیت تمام اداکاروں کو یہ مرحلہ طے کرنا پڑتا تھا کیونکہ پرنٹ اچھا نہیں ہوتا تھا اور اسکرپٹ بھی مکمل طور پر دستیاب نہیں ہوتا تھا، بعض اوقات ڈائیلاگ شوٹنگ کے دوران ہی بدل جاتے تھے، اس لیے بعد میں ہونٹوں کی حرکت سے اندازہ لگا کر ڈبنگ کرنا پڑتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اس تجربے کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم عام زندگی میں بھی کسی کے ہونٹوں سے باآسانی پہچان سکتے ہیں کہ وہ کیا بات کر رہا ہے۔

گفتگو کے دوران سعود نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ فلموں کی شوٹنگ کے دوران انہیں اداکاراؤں کو گود میں اٹھانا پڑتا تھا، ایک دن ان کی اہلیہ جویریہ سعود نے کہا کہ بیٹی جنت کو گود میں اٹھا لو، جس پر انہوں نے انکار کر دیا۔

اداکار کے مطابق ان کے انکار پر جویریہ نے کہا کہ بھاری بھاری ہیروئنز کو تو اٹھا لیتے ہو لیکن اپنی بیٹی کو نہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہیروئنز کو اٹھانے کے پیسے ملتے تھے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کو گود میں انہوں نے کے دوران کہا کہ

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا