جویریہ نے اداکاراؤں کو گود میں اٹھانے کا شکوہ کیوں کیا؟ سعود نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ماضی کے مقبول فلمی ہیرو سعود نے بتایا کہ ان کی اہلیہ جویریہ سعود نے اداکاراؤں کو گود میں اٹھانے پر ان سے شکوہ کیا تھا۔
سعود نے حال ہی میں ’365 نیوز‘ کے پروگرام میں شرکت کی اور مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ فلم کی اداکاری اور ٹی وی کی اداکاری میں بہت فرق ہے، فلم میں کام جلدی کیا جاتا ہے، جب کہ ٹی وی ڈراموں میں ایک ڈائیلاگ بولنے میں بھی بہت وقت لگ جاتا ہے۔
اداکار نے ماضی کے فلمی دور کے چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اُس وقت فلم کی شوٹنگ کے دوران آواز ڈب نہیں کی جاتی تھی بلکہ بعد میں ڈبنگ کرنا پڑتی تھی، جو ایک مشکل عمل ہوتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ریمبو، بابر علی اور شان سمیت تمام اداکاروں کو یہ مرحلہ طے کرنا پڑتا تھا کیونکہ پرنٹ اچھا نہیں ہوتا تھا اور اسکرپٹ بھی مکمل طور پر دستیاب نہیں ہوتا تھا، بعض اوقات ڈائیلاگ شوٹنگ کے دوران ہی بدل جاتے تھے، اس لیے بعد میں ہونٹوں کی حرکت سے اندازہ لگا کر ڈبنگ کرنا پڑتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اس تجربے کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم عام زندگی میں بھی کسی کے ہونٹوں سے باآسانی پہچان سکتے ہیں کہ وہ کیا بات کر رہا ہے۔
گفتگو کے دوران سعود نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ فلموں کی شوٹنگ کے دوران انہیں اداکاراؤں کو گود میں اٹھانا پڑتا تھا، ایک دن ان کی اہلیہ جویریہ سعود نے کہا کہ بیٹی جنت کو گود میں اٹھا لو، جس پر انہوں نے انکار کر دیا۔
اداکار کے مطابق ان کے انکار پر جویریہ نے کہا کہ بھاری بھاری ہیروئنز کو تو اٹھا لیتے ہو لیکن اپنی بیٹی کو نہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہیروئنز کو اٹھانے کے پیسے ملتے تھے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کو گود میں انہوں نے کے دوران کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔