خطے میں جاری بڑا کھیل
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250922-03-5
عارف بہار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو پہلو میں بٹھا کر افغانستان کی بگرام ائربیس واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سنسی خیز انداز اپناتے ہوئے اخبار نویسوں کو مخاطب کرکے کہا یہ آپ کے لیے چھوٹی سی بریکنک نیوز ہو سکتی ہے کہ ہم اپنی ائر بیس واپس چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس خواہش کی وضاحت کرتے ہوئے کہا بگرام ائر بیس اس مقام سے ایک گھنٹے کی دور ی پر ہے جہاں چین جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔ یوں امریکا نے خطے میں اپنے عزائم اور ارادوں کو زیادہ کھل کر بیان کر دیا۔ گویا کہ وہ چین کے ایٹمی ہتھیاروں پر نظر رکھنے کے لیے افغانستان میں اپنی براہ راست موجودگی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ امریکا کی اس خواہش کے جواب میں افغانستان کے قائم قام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ کوئی بھی افغانستان پر جارحیت نہیں کر سکتا اگر ایسا کرے گا تو نتائج صاف ظاہر ہوں گے۔ جس نے بھی افغانستان میں شکست کھائی وہ دوبارہ ادھر کا رخ نہیں کرتا۔ امیر خان متقی کے اس بیان سے واضح ہے کہ طالبان حکومت بقائمی ہوش وحواس ِ خمصہ امریکا کو بگرام ائر بیس میں قدم نہیں رکھنے دے گی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دوحا میں طالبان نمائندوں اور امریکی حکام کے جب درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تو امریکیوں کی خواہش تھی کہ وہ باقی افغانستان تو خالی کریں گے مگر انہیں بگرام ائر بیس میں قیام کی اجازت دی جائے۔ افغان سوشل میڈیا انفلونسر اور طالبان کے حامی ایک صحافی وکیل احمد مبارز نے انکشاف کیاہے کہ امریکا کی اس خواہش کے جواب میں طالبان وفد نے دوٹوک انداز میں بتا دیا کہ اگر امریکا بگرام ائر بیس نہیں چھوڑے گا تو طالبان اگلے بیس سال مزید لڑنے کو تیار ہیں۔ اس سخت موقف کے بعد امریکا کے پاس بگرام ائر بیس خالی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ امریکا اس اڈے کو خالی تو کر بیٹھا مگر وہ رنج اور غصے کا شکار ہو کر رہ گیا۔
افغانستان کے صوبہ پروان میں قائم بگرام ائر بیس سوویت یونین نے 1950 میں تعمیر کی تھی۔ ستتر مربع کلومیٹر پر محیط یہ ایک مکمل اور جدید شہر ہے جس میں بازار، جیلیں، تعذیب کدے عبادت گاہیں غرضیکہ دنیا کی ہر سہولت اور آسائش موجود ہے۔ سوویت یونین کے بعد امریکا نے افغانستان پر قبضہ کیا تو بگرام ائر بیس خطے میں ان کا سب سے بڑا ٹھکانہ تھا۔ امریکا کے تین صدور جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اڈے کا دورہ کرکے اپنے فوجیوں کا مورال بلند کرنے کی کوشش کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے امریکا کے فوجی انخلا کا آخری مرحلہ آسان بنایا مگر انہوں نے کئی بار اس مایوسی کا اظہار کیا کہ امریکا کو بگرام ائر بیس نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ افغانستان سے نکلتے ہی امریکا کو بگرام ائر بیس واپس حاصل کرنے کا خیال بھی آگیا تھا کیونکہ بگرام ائربیس صرف چین پر نظر رکھنے کے لیے ناگزیر نہیں بلکہ ایٹمی ملک پاکستان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے جب تک امریکی بگرام ائر بیس پر موجود رہے پاکستان اور چین ایک انجانے خوف کا شکار رہے۔ کئی مغربی جریدوں نے اس وقت انکشاف کیا تھا کہ بگرام ائر بیس میں ایک مخصوص فورس اس کام کے لیے مستعد ہے کہ خدانخواستہ جب پاکستان داخلی انتشار کا شکار ہوگا اور اس کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ پیدا ہوا تو یہ فورس آگے بڑھ کر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا کنٹرول سنبھالے گی۔ بگرام ائر بیس سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد چین اور پاکستان دونوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔
امریکا کی اس اسٹرٹیجک نوعیت کے اہم اڈے کی واپسی کی خواہش تازہ اور جوان رہی۔ طالبان کے اقتدار میں آتے ہی پاکستان اور افغان حکمرانوں کے درمیان تعلقات بگڑتے چلے گئے۔ طالبان افغانستان میں پاکستان کا آخری انسانی اثاثہ تھے اس فصل کی کاشت پاکستان نے اپنے خون جگر اور کئی عالمی بدنامیاں مول لے کر کی تھی۔ امریکا کی ڈومور کی صداؤں میں عملی طور پر نومور کہہ کر عالمی عتاب کو دعوت دی تھی۔ المیہ یہ ہوا کہ وہی آخری اثاثہ جب کابل میں برسراقتدار آیا تو اسلام آباد اور کابل کی راہیں جدا ہوگئیں۔ پاکستان امریکا کے دائرۂ اثر میں چلا گیا اور طالبان نے امریکا اور بھارت کی خالی کردہ اسپیس میں چین کو سمونا شروع کر دیا۔ اس سے چند ہی برس قبل یوسف رضاگیلانی اپنی اسٹیبلشمنٹ کا یہ پیغام صدر اشرف غنی کو دینے کابل گئے تھے کہ وہ امریکا کے بجائے چین کی کشتی میں سوار ہوجائیں۔ یوسف رضا گیلانی کے واپس وطن لوٹتے ہی اشرف غنی نے امریکا کو شکایت لگانے کے انداز میں کہا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم انہیں چین کے ساتھ چلنے اور بیلٹ اینڈ روڈ کا حصہ بننے کی دعوت دینے آئے تھے۔ وقت ایسا پلٹا کہ اب طالبان کا کابل چینی سرمایہ کاری کا اہم ترین مرکز ہے اور پاکستان میں سی پیک التوا کا شکار ہو چکا ہے۔
یہ بات تو بڑی حد تک واضح ہے کہ افغان حکمران امریکا کو بگرام ائربیس نہیں دیں گے امریکا کی خواہش ہوگی کہ طالبان مخالف قوتوں کو یکجا کر کے اس ملک کو دوبارہ خانہ جنگی کی نذر کیا جائے جس کے بعد رجیم چینج کا عمل آسان ہوتا چلا جائے گا۔ جس کے لیے پاکستان کی ضرورت ہوگی۔ اس مقصد کے لیے کابل اور اسلام آباد کے درمیان دوریاں پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ عملی طور پر کابل اور اسلام آباد میں خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے تو اعلانیہ کہہ دیا ہے کہ افغانستان ایک دشمن ملک ہے۔ سوال یہ ہے کہ سارے ہمسائے اگر دشمن ہیں تو پھر دوست کہاں سے ڈھونڈ لائیں گے؟ یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہمسائے کا نعم البدل کوئی نہیں ہوتا۔ افغانستان میں امن نہیں ہوگا تو پاکستان میں بھی امن نہیں آئے گا اور بدامنی کا شکار ملک اگر پر لگا کر اْڑنا چاہے گا تو اسے حالات کے ریگزار پر رینگنا پڑتا ہے۔ جہاں امن نہیں ہوگا وہاں سرمایہ کاری ہوگی نہ اس کی کوئی عالمی نیک نامی ہوگی اور یہی پائیدار اور حقیقی ترقی کے لیے ضروری عوامل ہوتے ہیں۔ اس لیے خطے میں بڑا کھیل جاری ہے اور یہاں اپنے کارڈز اچھے انداز میں کھیل کر ہی حالات کے بھنور سے نکلا جاتا ہے مگر اس کے لیے شرط ہے کہ کوئی خود بھنور سے نکلنا چاہتا ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا کو بگرام ائر افغانستان میں امریکا کی امریکا کے کا شکار کے بعد کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔