پاکستان ہمارا محافظ، آزاد کشمیر میں افراتفری پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، سردار عتیق
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی سرزمین پر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کی کوئی گنجائش نہیں، پاکستان ہمارا محافظ ہے۔ ریاست میں شائستگی کا ماحول قائم رکھنا ضروری ہے۔
راولاکوٹ میں معرکہ حق جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سردار عتیق نے کہاکہ ہم نے حال ہی میں معرکہ حق میں ہندوستان کو شکست سے دوچار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ میں معرکہ حق جلسہ: پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھ گئی، وزیراعظم آزاد کشمیر
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے، ابھی مزید ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔ اللہ نے پاکستان کو وہ مقام دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو بھی آزاد کرائے اور حرمین شریفین کا بھی تحفظ کرے۔
انہوں نے کہاکہ عوام مطالبات کے حق میں احتجاج ضرور کریں لیکن گالی دینے کی کوئی گنجائش نہیں، کچھ باتیں بالکل جائز ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست میں انارکی پیدا کی جائے۔
سردار عتیق نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ وابستگی پر کوئی سمھجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ پاکستانیت ہماری رگوں میں دوڑ رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان کی خاطر جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کی مہم کا اعلان کررکھا ہے، جس کا آج پہلا جلسہ راولاکوٹ کے صابر شہید اسٹیڈیم میں ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افواج پاکستان سے یکجہتی: راولاکوٹ میں معرکہ حق جلسہ جوش و خروش کے ساتھ جاری
کچھ روز قبل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ آزاد کشمیر میں ہونے والی افراتفری کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، اور سیاسی جماعتیں اس سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آزاد کشمیر افرا تفری ریاست پاکستان سابق وزیراعظم سردار عتیق وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افرا تفری ریاست پاکستان سردار عتیق وی نیوز میں معرکہ حق سردار عتیق نے کہاکہ
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔