ایران کی چا بہار بندرگاہ پر امریکی پابندیاں بھارت کیلئے ایک اور بڑا دھچکا ہے; سردار مسعود خان
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اورسینئرسفارت کار سردار مسعود خان نے امریکہ کی طرف سے خلیج عمان پر قائم چا بہار بندرگاہ پر پابندیوں کا بھارت کے لئے استثنیٰ واپس لینے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایران اور بھارت دونوں متاثر ہوں گے، لیکن یہ بھارت کے لئے خاص طور پر بڑا دھچکا ہے۔ امریکہ کے اس فیصلے سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بھارت کس طرح چالاکی سے امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا تھا۔ بھارت ایک جانب امریکہ کا اسٹرٹیجیک پارٹنر تھا اور دوسری جانب امریکہ مخالف ممالک سے تیل اور دوسری اجناس کی تجارت کر رہا تھا۔
جلد کے ٹیٹوز سے اکتا کر چینی نوجوان دانتوں پر ٹیٹوز بنوانے لگے
امریکہ کی جانب سے اسٹرٹیجیک اہمیت کی حامل چا بہار بندرگاہ پر پابندیوں سے استثنیٰ واپس لینے کے فیصلے کے حوالے سے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکہ نے بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کے بعد ایک اور اہم فیصلہ کیا ہے جو بظاہر ایران کے خلاف ہے لیکن اس پابندی سے نہ صرف بھارت کی بھاری سرمایہ کاری ڈوبنے کا امکان ہے بلکہ اس بندرگاہ کے راستے پاکستان کو بائی پاس کرکے افغانستان اور وسط ایشیا تک پہنچنے کا اس خواب بھی ادہورا رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے میں واضح لکھا ہے کہ یہ پابندی نہ صرف ایران کی چا بہار بندرگاہ پر ہوگی بلکہ اس بندرگاہ کا انتظام و انصرام سنبھالنے والوں پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔ اس وقت چا بہار بندرگاہ کی آپریشنل زمہ داریاں انڈیا کی پورٹس گلوبل لمیٹڈ کمپنی نباہ رہی جو بھارت کی وزارت پورٹس و جہاز رانی کے ماتحت ہے۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ میں پہلی مرتبہ خاتون سلیکٹر کا تقرر
سردار مسعود نے کہا کہ یہ بندرگاہ پہلے دن سے بد نیتی کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ایک جانب تو پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو سبوتاژ کرنا تھا اور دوسری جانب اس بندرگاہ کی آڑ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور دھشتگردی کا ایک اڈہ قائم کر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اسرائیل ایران جنگ کے دوران اسی جاسوسی کے اڈے کو بھارت نے ایران کے خلاف بھی استعمال کیا اور ایرانی حکومت نے اسی جاسوسی کے نیٹ ورک سے جڑے بھارتی شہریوں کو گرفتار بھی کیا تھا۔ بھارت نے اس بندرگاہ کو دو دھاری تلوار کی طرح ایران اور پاکستان دونوں کے خلاف استعمال کیا۔ بھارت اس دھشتگردی کے اڈے کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر خاص طور پر بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہا ہے۔
چودھری شجاعت نے باڈی بلڈرز فیڈریشن کے چیئرمین بننے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا
امریکہ کی طرف سے ایچ-ون بی ویزہ کی فیس ایک لاکھ ڈالر تک بڑھانے کے فیصلے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بھی ہندوستان کو سزا دینا ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ آنے کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو نکالا گیا تھا جس کی بھارت کو کبھی توقع نہیں تھی۔ جب سے امریکہ نے ایچ ون بی ویزہ کی سہولت متعارف کرائی اکہتر فیصد بھارتی شہری اس ویزہ کے تحت امریکہ گئے جہاں وہ ٹیک انڈسٹری اور دوسرے شعبوں میں نوکریاں کر رہے ہیں۔ دوسری بڑی تعداد چین کے شہریوں کی ہے اور معمولی تعداد پاکستانی تارکین وطن کی ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسی ہے کہ اب یہ نوکریاں خود امریکی شہری کریں تاکہ ملک کے وسائل باہر منتقل ہونے کے بجائے امریکہ میں ہی رہیں۔
کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ؛ پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ چا بہار بندرگاہ پر دوبارہ امریکی پابندیوں سے چین اور پاکستان کو صرف اس صورت میں فائدہ ہوگا جب ہم جلد از جلد گوادر کی بندرگاہ کو اپریشنلائز کریں۔ وزیراعظم پاکستان نے چین کے صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان کی جن ترجیحات کا ذکر کیا تھا ان میں گوادر بندرگاہ کو جلد از جلد اپریشنلائز کرنا بھی تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چا بہار بندرگاہ پر دوبارہ امریکی پابندیوں کا چین کو اس طرح فائدہ ہوگا کہ چین اپنے روڈ اینڈ بلٹ منصوبے کے تحت وسط ایشیا سے ایران تک ایک راہداری قائم کرنا چاہتا ہے، اس مقصد کے لئے چین پہلے ہی ایران کو چار سو ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کر چکا جس سے راہداری کی تعمیر کے علاوہ دو اور بندرگاہوں کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ سے دنیا میں نئی تاریخ رقم ہوگئی؛ گورنر پنجاب
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔