سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اورسینئرسفارت کار سردار مسعود خان نے امریکہ کی طرف سے خلیج عمان پر قائم چا بہار بندرگاہ پر پابندیوں کا بھارت کے لئے استثنیٰ واپس لینے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایران اور بھارت دونوں متاثر ہوں گے، لیکن یہ بھارت کے لئے خاص طور پر بڑا دھچکا ہے۔ امریکہ کے اس فیصلے سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بھارت کس طرح چالاکی سے امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا تھا۔ بھارت ایک جانب امریکہ کا اسٹرٹیجیک پارٹنر تھا اور دوسری جانب امریکہ مخالف ممالک سے تیل اور دوسری اجناس کی تجارت کر رہا تھا۔

جلد کے ٹیٹوز سے اکتا کر چینی نوجوان دانتوں پر ٹیٹوز بنوانے لگے

امریکہ کی جانب سے اسٹرٹیجیک اہمیت کی حامل چا بہار بندرگاہ پر پابندیوں سے استثنیٰ واپس لینے کے فیصلے کے حوالے سے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکہ نے بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کے بعد ایک اور اہم فیصلہ کیا ہے جو بظاہر ایران کے خلاف ہے لیکن اس پابندی سے نہ صرف بھارت کی بھاری سرمایہ کاری ڈوبنے کا امکان ہے بلکہ اس بندرگاہ کے راستے پاکستان کو بائی پاس کرکے افغانستان اور وسط ایشیا تک پہنچنے کا اس خواب بھی ادہورا رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے میں واضح لکھا ہے کہ یہ پابندی نہ صرف ایران کی چا بہار بندرگاہ پر ہوگی بلکہ اس بندرگاہ کا انتظام و انصرام سنبھالنے والوں پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔ اس وقت چا بہار بندرگاہ کی آپریشنل زمہ داریاں انڈیا کی پورٹس گلوبل لمیٹڈ کمپنی نباہ رہی جو بھارت کی وزارت پورٹس و جہاز رانی کے ماتحت ہے۔

بنگلادیش کرکٹ بورڈ میں پہلی مرتبہ خاتون سلیکٹر کا تقرر

سردار مسعود نے کہا کہ یہ بندرگاہ پہلے دن سے بد نیتی کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ایک جانب تو پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو سبوتاژ کرنا تھا اور دوسری جانب اس بندرگاہ کی آڑ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور دھشتگردی کا ایک اڈہ قائم کر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اسرائیل ایران جنگ کے دوران اسی جاسوسی کے اڈے کو بھارت نے ایران کے خلاف بھی استعمال کیا اور ایرانی حکومت نے اسی جاسوسی کے نیٹ ورک سے جڑے بھارتی شہریوں کو گرفتار بھی کیا تھا۔ بھارت نے اس بندرگاہ کو دو دھاری تلوار کی طرح ایران اور پاکستان دونوں کے خلاف استعمال کیا۔ بھارت اس دھشتگردی کے اڈے کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر خاص طور پر بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہا ہے۔

چودھری شجاعت نے باڈی بلڈرز فیڈریشن کے چیئرمین بننے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا

امریکہ کی طرف سے ایچ-ون بی ویزہ کی فیس ایک لاکھ ڈالر تک بڑھانے کے فیصلے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بھی ہندوستان کو سزا دینا ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ آنے کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو نکالا گیا تھا جس کی بھارت کو کبھی توقع نہیں تھی۔ جب سے امریکہ نے ایچ ون بی ویزہ کی سہولت متعارف کرائی اکہتر فیصد بھارتی شہری اس ویزہ کے تحت امریکہ گئے جہاں وہ ٹیک انڈسٹری اور دوسرے شعبوں میں نوکریاں کر رہے ہیں۔ دوسری بڑی تعداد چین کے شہریوں کی ہے اور معمولی تعداد پاکستانی تارکین وطن کی ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسی ہے کہ اب یہ نوکریاں خود امریکی شہری کریں تاکہ ملک کے وسائل باہر منتقل ہونے کے بجائے امریکہ میں ہی رہیں۔

کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ؛ پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا

 ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ چا بہار بندرگاہ پر دوبارہ امریکی پابندیوں سے چین اور پاکستان کو صرف اس صورت میں فائدہ ہوگا جب ہم جلد از جلد گوادر کی بندرگاہ کو اپریشنلائز کریں۔ وزیراعظم پاکستان نے چین کے صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان کی جن ترجیحات کا ذکر کیا تھا ان میں گوادر بندرگاہ کو جلد از جلد اپریشنلائز کرنا بھی تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چا بہار بندرگاہ پر دوبارہ امریکی پابندیوں کا چین کو اس طرح فائدہ ہوگا کہ چین اپنے روڈ اینڈ بلٹ منصوبے کے تحت وسط ایشیا سے ایران تک ایک راہداری قائم کرنا چاہتا ہے، اس مقصد کے لئے چین پہلے ہی ایران کو چار سو ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کر چکا جس سے راہداری کی تعمیر کے علاوہ دو اور بندرگاہوں کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ سے دنیا میں نئی تاریخ رقم ہوگئی؛ گورنر پنجاب

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار