یونیورسٹی آف لیڈز کے پروفیسر پیٹر وھیلَن کا لیکچر
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے ” ایکسپرٹ لیکچر سیریز” کے تحت منعقدہ لیکچر میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز کے پروفیسر پیٹر وھیلَن نے کمپٹیشن قوانین میں کمپنیوں کی “پیرنٹل لائیبلٹی” کے موضوع پر نہایت اہم لیکچر دیا۔ پروفیسر وھیلَن، اسکول آف لا میں پروفیسر اور انسٹیٹیوٹ آف کرمنل لا اینڈ جسٹس کے ڈائریکٹر ہیں۔تقریب کا آغاز کرتے ہوئے، چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ یہ کمپٹیشن کمیشن میں اصلاحات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن نے قانون کی خلاف ورزیوں پر ایک ارب روپے سے زائد کے جرمانے ریکور وصول کیے ہیں۔ یہ ریکوریاں صارفین کے حقوق کے تحفظ اور مارکیٹوں میں منصفانہ مقابلے کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر کبیر نے مزید کہا کہ کمپٹیشن کمیشن نے فعال پیروی سے زیر التوا مقدمات میں سے نصف سے زائد کے فیصلے سنا دئے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں قانون کی عملداری یقینی ہوئی اور کمپنیوں سے جرمانے ریکور ہوئے۔ کمپٹیشن کمیشن میں ایک “سینٹر آف ایکسیلنس” قائم کیا گیا ہے، جہاں ماہرین اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں اورمختلف سیکتروں میں کمپٹیشن کے فروغ اور حائل ریکاوٹوں پر اعلیٰ سطح کی تحقیق کی رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کمپٹیشن کمیشن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔