بھارتی مسلمانوں پر مودی کا ووٹر وار
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
ریاض احمدچودھری
بھارت میں عام انتخابات سے قبل بہار کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹر لسٹ سے اقلیتی برادری کے لاکھوں ووٹرز کے نام منظم انداز میں خارج کیے جا رہے ہیں۔بہار کے دس اضلاع، خصوصاً مدھوبنی، مشرقی چمپارن، پورنیہ اور ستمرھی جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹر لسٹ سے ہزاروں نام غائب کر دیے گئے ہیں۔ مدھوبنی میں 3,52,545، مشرقی چمپارن میں 3,16,793، پورنیہ میں 2,73,920 اور ستمرھی میں 2,44,962 ووٹرز کے فارم جمع نہ ہونے پر انہیں فہرست سے خارج کیے جانے کا خدشہ ہے۔
الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ فارم کی عدم وصولی مردہ، منتقل شدہ یا دہری رجسٹریشن کی بنیاد پر اخراج کا سبب بنی، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اسے ہندوتوا نظریے کے تحت چلائی جانے والی خاموش مہم قرار دیا ہے، جس کا مقصد اقلیتوں اور غریب طبقات کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنا ہے۔دیگر متاثرہ اضلاع میں پٹنہ، گیا، گوپال گنج، سارن، مظفرپور اور سمستی پور شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 65 لاکھ سے زائد ووٹرز کو ووٹر لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 7.
ناقدین کا کہنا ہے کہ ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کا نعرہ صرف ایک سیاسی دعویٰ رہ گیا ہے، جبکہ زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ مودی راج میں اقلیت ہونا سب سے بڑا جرم بن چکا ہے۔ ووٹ مانگنے سے پہلے ووٹر ہی مٹا دیے گئے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں اور الیکشن سے متعلقہ معاملات پر نظر رکھنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ عمل جلد بازی میں مکمل کیا گیا ہے جبکہ بہار سے تعلق رکھنے والے کئی ووٹرز کا کہنا ہے کہ ان فہرستوں میں ناصرف غلط تصویریں شامل کی گئی ہیں بلکہ کثیر تعداد میں وہ افراد بھی ان لسٹوں کا حصہ ہیں جو وفات پا چکے ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ دنوں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی حکومت پر ‘ووٹ چوری’ کے الزامات لگائے اور الیکشن کمیشن کی فہرستوں میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا۔ انھوں نے ایک ہی ایڈریس پر درجنوں افراد کے ووٹ رجسٹر ہونے اور اسی ایڈریس پر کئی ذات اور کئی مذاہب کے لوگوں کے اندراج کے حوالے سے بات کی۔راہل گاندھی کی اس پریس کانفرنس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ‘ووٹ چوری’ اور ‘ووٹ چوری ایکسپوزڈ’ جیسے ہیش ٹیگ مسلسل گردش کر رہے ہیں اور لوگ مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ووٹر فہرستوں میں موجود تضادات اور خامیوں کو پوسٹ کر رہے ہیں۔اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے ‘ووٹ چوری’ کے معاملے پر پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک احتجاجی مارچ بھی کیا جس کے دوران راہل گاندھی سمیت متعدد اراکین پارلیمان کو حراست میں لیا گیا۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے ‘انڈیا الائنس’ کے اراکین پارلیمنٹ کے لیے ایک عشائیہ کا اہتمام کریں گے جس کے دوران بہار میں ووٹر لسٹوں پر جامع نظرثانی اور مبینہ ‘انتخابی دھاندلی’ کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوششوں پر بات چیت کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹروں کے جامع نظرِ ثانی کے اس خصوصی عمل کو ‘ایس آئی آر’ کہا گیا ہے اور یہ 25 جون سے 26 جولائی تک جاری رہا تھا۔اس دوران اہلکاروں نے ریاست بہار کے درج شدہ 7 کروڑ 89 لاکھ ووٹروں کے گھروں میں جا کر اْن کا ڈیٹا چیک کیا۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ آخری بار ووٹر لسٹوں پر اس نوعیت کی نظرِ ثانی 2003 میں ہوئی تھی اور اب انھیں اپ ڈیٹ کرنا ضروری تھا۔نئی عبوری فہرست میں 7 کروڑ 24 لاکھ نام ہیں، یعنی پچھلی فہرست سے 65 لاکھ کم۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اْن 65 لاکھ افراد میں سے 22 لاکھ فوت ہو چکے ہیں، سات لاکھ ووٹر ایسے تھے جن کے نام دو بار درج تھے جبکہ اس دورانیے میں 36 لاکھ ووٹر بہار چھوڑ کر دوسری ریاستوں میں منتقل ہوئے اور وہیں اپنا ووٹ رجسٹر کروایا۔اس فہرستوں میں درستگی کے لیے درخواستیں یکم ستمبر تک دی جا سکتی ہیں، اور اب تک 1 لاکھ 65 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ایسا ہی جائزہ پورے ملک میں تقریباً ایک ارب ووٹروں کے ڈیٹا کی جانچ کے لیے کیا جائے گا۔لیکن اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ کمیشن نے جان بوجھ کر بہت سے ووٹروں کے نام فہرستوں سے نکالے ہیں، خاص طور پر ان مسلمان ووٹرز کے جو بہار کی چار سرحدی اضلاع میں بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ سب اس لیے کیا گیا تاکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابات میں فائدہ ہو۔
اپوزیشن ارکان نے اس صورتحال کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دے کر پارلیمنٹ میں اس پر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ پارلیمان کے باہر موجود مظاہرین نے اس موقع پر ‘مودی مردہ باد’، ‘ایس آئی آر واپس لو’ اور ‘ووٹ چوری بند کرو’ جیسے نعرے لگائے۔ان فہرستوں کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا ہے جو اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔ الیکشن کے اصلاحاتی ادارے ‘اے ڈی آر’ نے اس کے وقت پر سوال اٹھایا ہے۔بہار میں ‘آر جے ڈی’ کے رہنما اور سابق وزیر اعلی لالو پرساد اور ربری ڈیوی کے بیٹے تیجوسی یادو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بہار میں جو فہرست جاری ہوئی ہے اس میں تین لاکھ سے زیادہ گھروں کے مکان نمبر کی جگہ ایک صفر (0)، دو صفر (00) یہاں تک کہ تین صفر (000) درج ہیں۔یہ کوئی مذاق ہے۔ میرے خیال سے الیکشن کمیشن کو چیزوں کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔’
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن فہرستوں میں ووٹروں کے ووٹرز کے ووٹ چوری رہے ہیں کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔
لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے
دونوں قائدین نے مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔
مزید :