اگر ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیاں ہیں تو مودی کو استعفیٰ دے دینا چاہیئے، ابھیشیک بنرجی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
ٹی ایم سی کے لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ نہیں کہہ سکتا کہ گجرات، اترپردیش اور مدھیہ پردیش جیسے کچھ ریاستوں میں ووٹر لسٹ درست ہے، لیکن مغربی بنگال، بہار یا تمل ناڑو میں درست نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن اور مودی حکومت کے خلاف کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے۔ اسی دوران ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور الیکشن کمیشن پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیاں ہیں تو وزیر اعظم مودی اور ان کی کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیئے، ساتھ ہی پارلیمنٹ کو بھی تحلیل کر دینا چاہییے۔ ٹی ایم سی کے لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ نہیں کہہ سکتا کہ گجرات، اترپردیش اور مدھیہ پردیش جیسے کچھ ریاستوں میں ووٹر لسٹ درست ہے، لیکن مغربی بنگال، بہار یا تمل ناڑو میں درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی جاتی ہے تو یہ پورے ملک میں ہونی چاہیئے۔ اس کے لئے پہلا قدم وزیراعظم اور ان کی کابینہ کا استعفیٰ ہونا چاہیئے اور پارلیمنٹ کو بھی تحلیل کر دینا چاہیئے۔ ابھیشیک بنرجی نے دعویٰ کیا کہ اگر موجودہ حکومت اسی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر منتخب ہوئی ہے تو مودی حکومت کا جواز ہی باطل ہے۔ واضح ہو کہ ملک میں پارلیمانی انتخاب 2024 کے نصف میں ہوا تھا۔ ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیاں ہیں تو پارلیمنٹ کو تحلیل کر دینا چاہیئے اور پھر پورے ملک میں ایس آئی آر کیا جانا چاہیئے۔
ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اسی ووٹر کے ذریعہ ملک کے وزیراعظم کا انتخاب ہوا ہے اور بی جے پی کے 240 سے زائد پارلیمنٹ ممبران منتخب ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس ووٹر لسٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ ہی ملک کے صدر اور نائب صدر کا انتخاب کریں گے۔ ابھیشیک بنرجی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بی جے پی بہار میں ایس آئی آر اسی لئے کرا رہی ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ اگر لوگ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے تو وہ رواں سال کے اخیر میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخاب میں ہار جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ابھیشیک بنرجی نے الیکشن کمیشن ٹی ایم سی کے دینا چاہیئے ایس آئی آر نے کہا کہ ووٹر لسٹ کہ اگر
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ