جماعت اسلامی کے مرکزی الیکشن کمیشن والیکشن ٹریبونل کی تشکیل نو
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250928-01-9
لاہور (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شوریٰ نے الیکشن کمیشن اور الیکشن ٹریبونل کی تشکیل نو کردی۔اجلاس کی صدارت امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم
الرحمن نے کی۔ شوریٰ کے اراکین کی رائے کے مطابق راشد نسیم الیکشن کمیشن کے صدر جبکہ ڈاکٹر عطا الرحمن،انجینئر اخلاق احمد،ذکر اللہ مجاہد اور بلال قدرت بٹ الیکشن کمیشن کے ارکان ہوںگے۔سید شاہد ہاشمی الیکشن ٹربیونل کے صدر اور نصراللہ رندھاوا،ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ،سیف الدین ایڈووکیٹ اور محمد اویس قاسم تلہ الیکشن ٹربیونل کے ارکان ہونگے۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ہر دو اداروں کے ذمے داران دستور کے مطابق بطریق احسن اپنی ذمے داریاں ادا کریںگے۔
تشکیل نو
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی الیکشن کمیشن
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔