آزادی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ذمہ داری کے اعادے کا دن ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے قوم کو پاکستان کے 79 ویں یوم آزادی کے موقع پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ یہ ذمہ داری کے اعادے کا دن ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بیان میں کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر پوری قانونی برادری اور عوام پاکستان کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، آزادی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں جسے منایا جائے بلکہ یہ ذمہ داری کے اعادے کا دن ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارا آئین عوام کی امنگوں کا مجسم روپ ہے جو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، تمام اداروں بالخصوص عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اصولوں کو دیانت داری، غیرجانبداری اور جرأت کے ساتھ برقرار رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ آگے کے سفر میں ہمیں جمہوری طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے، کمزور طبقوں کے حقوق کے تحفظ اور اس بات کو یقینی بنانے میں ثابت قدم رہنا ہوگا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہمیں مل کر ایسا معاشرہ پروان چڑھانا ہے جہاں تنازعات منصفانہ طریقے سے حل ہوں، سچائی بے خوفی سے قائم رکھی جائے اور ہر شہری اپنی روزمرہ زندگی میں انصاف کی موجودگی کو محسوس کرے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس مبارک موقع پر میں تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اتحاد، ضبط و نظم اور خدمت وطن کے عزم کو تازہ کریں، ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی کی اصل روح ہمارے اس اجتماعی عزم میں ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک منصف، پرامن اور خوش حال پاکستان تعمیر کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس یحیی نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔