آج کا دن اہمیت کا حامل ہے، ہمارے بزرگوں نے آزادی کیلئے قربانیاں دیں: سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
— فائل فوٹو
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ آج کا دن اہمیت کا حامل ہے، ہمارے بزرگوں نے آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔
سرفراز بگٹی نے یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب جب پاکستان پر مشکل وقت آیا، بلوچستان کے لوگ پیچھے نہیں ہٹے۔
اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں نے جشن آزادی منایا ہے، بہت مٹھی بھر لوگ ہیں جو ملک کو توڑنے کی بات کرتے ہیں، ہماری روایات کو بے دردی کے ساتھ کچلا جا رہا ہے۔
جناح اسپورٹس کمپلیکس میں یومِ آزادی اورمعرکہ حق کی فتح کی تقریب ہوئی، جس میں صدر مملکت، وزیرِاعظم ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی کابینہ ارکان،قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان سمیت دوست ممالک کے سفراء، اور بڑی تعداد میں شہری بھی شریک تھے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ معصوم شہریوں شہید کیا جا رہا ہے، اس کے خلاف سب نے یکجا ہونا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی اور بے چینی کی صورتحال جلد ختم ہونے کو ہے۔
سرفراز بگٹی نے تقریب میں ملی نغمہ پیش کرنے والے بچوں کے لیے 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔