نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے جشن آزادی کے موقع پر پاکستان زندہ آباد کا نعرہ بلند کرتے ہوئے پوری قوم کو یوم آزادی کی دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہم سب کے آبا و اجداد کو خراجِ عقیدت جن کی قربانیوں سے پاکستان وجود میں آیا۔

یومِ آزادی کے موقع پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب تک’لا الہٰ الااللّٰہ، محمد رسول اللّٰہ‘ کے پرچم تلے متحد ہیں، کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔ آزادی کے تحفظ کے لیے سرحدوں کا دفاع، سچائی، انصاف، وقار کے اصولوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی پاکستان کو ایک ذمہ دار، امن پسند ملک کے طور پر پیش کرتی رہے گی۔ ہماری خارجہ پالیسی شراکت داری مکالمے کے ذریعے تنازعات حل کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر شہری سے اپیل کرتا ہوں کہ متحد رہیں، جمہوری اقدار کی حفاظت کریں۔ ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلح افواج اور عوام کے اُس عزم کو سراہتا ہوں جنہوں نے مل کر ہماری خود مختاری کا دفاع کیا۔ یہ اجتماعی ثابت قدمی ہماری عسکری تیاری کی مظہر اور مؤثر خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام، علاقائی سکون اور امن پر مبنی سفارتکاری کے عزم پر قائم ہے۔ آج ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ پاکستان کے عالمی وقار کو مزید بلند کریں گے، اپنے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات آگے بڑھائیں گے اور ایک پُرامن ہمسائیگی کو فروغ دیں گے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی