بلوچستان میں دہشتگردی کا خاتمہ قریب، امن کا سورج جلد طلوع ہوگا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ یوم آزادی ہمارے اسلاف کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور اس سال یہ دن اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہم نے ایک ایسے دشمن کو شکست دی جو طاقت میں سات گنا بڑا اور تکبر و غرور سے بھرپور تھا۔ بلوچستان سے دہشت گردی اور بدامنی کا خاتمہ قریب ہے۔ امن کا سورج جلد طلوع ہوگا۔
78ویں یوم آزادی کے موقع پر صوبائی اسمبلی کے سبزہ زار میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہاکہ ہماری بہادر افواج نے جواں مردی اور عزم کے ساتھ دشمن کے دانت کھٹے کیے جو پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد، اتحاد اور ترقی کے عزم کا اعادہ
انہوں نے کہاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی فتح پوری پاکستانی قوم کے اتحاد کی علامت ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ ملک پر جب بھی مشکل وقت آیا، بلوچستان کے لوگ ڈٹ کر کھڑے رہے اور آئندہ بھی وطن عزیز کے ساتھ ہر وقت کھڑے رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ گوادر سے ژوب اور پورے بلوچستان کے عوام نے جشن آزادی کو جوش و جذبے سے منایا جو ایک زندہ قوم کی پہچان ہے جو اپنے قومی تہوار کو ولولے سے مناتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مختلف اقوام خواہ بلوچ ہوں، پشتون ہوں یا ہزارہ، اپنی روایات اور اقدار کے محافظ ہیں، لیکن ایک مٹھی بھر دہشت گرد گروہ ملک اور بلوچ روایات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہاکہ معصوم عورتوں، بچوں اور مسافروں کو نشانہ بنانا ہمارے قبائلی اور معاشرتی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ایسے عناصر کی شدید مذمت کی اور کہاکہ بلوچستان کے عوام نے پہلے بھی ان کو مسترد کیا اور آئندہ بھی متحد رہیں گے۔
انہوں نے دہشتگردی کے واقعات کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد معصوم شہریوں اور مزدوروں کو قتل کرتے ہیں، عورت کے سامنے اس کے شوہر اور جوان بیٹے کو قتل کر دیا جاتا ہے، پھر یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا گیا۔ یہ کیسا چھوڑنا اور خاتون کی کیسی تکریم ہے جس میں اس کے سامنے اس کے سہاگ اور بیٹے کو بے دردی سے مار دیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پارلیمنٹ، علمائے کرام اور تمام مکاتب فکر کی قیادت پر زور دیا اور کہاکہ بلوچستان سے دہشت گردی اور بدامنی کا خاتمہ قریب ہے۔ ہماری بہادر فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور انشااللہ امن کا سورج جلد طلوع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے حالات دیکھے اور امن کی جانب لوٹے ہیں، اب بھی ہمیں یقین ہے کہ عوام اور سیکورٹی فورسز مل کر دہشت گردی کے ناسور پر قابو پائیں گے اور بلوچستان ماضی کے مثالی امن کی طرف لوٹے گا۔
تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے اسپیکر صوبائی اسمبلی عبدالخالق اچکزئی، ان کی ٹیم اور منتظمین کو شاندار تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی۔ انہوں نے تقریب میں پرفارم کرنے والے اسکول کے بچوں کے لیے پانچ لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ’نشان پاکستان‘ لینے سے معذرت، انصار عباسی بھی دستبردار
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر صوبائی وزرا، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز، علمائے کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کی اور انہیں یوم آزادی کی مبارکباد پیش کی۔ وہ تقریب میں شریک بچوں کے ساتھ گھل مل گئے اور یادگار تصاویر بھی بنوائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان پرچم کشائی دہشتگردی میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان وی نیوز یوم آزادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان دہشتگردی میر سرفراز بگٹی وزیراعلی بلوچستان وی نیوز یوم ا زادی بلوچستان کے سرفراز بگٹی وزیر اعلی نے کہاکہ انہوں نے نے کہا کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔