گلگت، شاہراہ بابوسر کوپھر سیلابی ریلوں نے لپیٹ میں لے لیا،تباہی کا منظر
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
گلگت بلتستان میں ایک بار پھر شاہراہِ بابوسر سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث تباہی کا منظر بن گئی، جس نے متعدد مقامات پر روڈ مکمل طور پر بند کر دی۔ ترجمان حکومتی فیض اللہ فراق نے اس سنگین صورتِ حال اور جاری امدادی کارروائیوں سے متعلق وضاحت کی کہ سیلابی ریلے نے جہاں سڑک کو نقصان پہنچایا، وہیں اس کے نتیجے میں کچھ مقامی گاڑیاں ملبے میں پھنس گئیں اور ایک بچہ بھی زخمی ہوا۔
متاثرہ علاقوں میں درجنوں مکانات، ایک گرلز اسکول، دو ہوٹل، ایک پولیس چوکی، اور ٹورسٹ پولیس شیلٹر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
لینڈ سلائیڈنگ اور فلڈنگ کی وجہ سے تقریباً 7 تا 8 کلومیٹر تک سڑک متاثر ہوئی اور متعدد جگہیں بند ہوگئیں۔
تحقیقات کے مطابق اب تک 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور 10 سے 15 افراد لاپتا ہیں۔ خواتین اور بچوں سمیت سیاحوں کی محفوظ منتقلی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، اور بعض کی بحفاظت واپسی ہوئی ہے۔ اب تک 200 سے زائد سیاح چلاس منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 15 کے قریب لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے ۔
پاک فوج، NDM A، GB اسکاوٹس اور دیگر امدادی ادارے ہیلی کاپٹرز، مشینری اور زمینی عملے کے ذریعے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
عوام کو احتیاط کا پیغام دیا گیا ہے اور وزیرِ اعلیٰ نے سڑکوں کی بحالی اور ریسکیو آپریشنز کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔