متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں پاکستانی سفارتخانے میں 79 ویں یوم آزادی کے موقع پر ایک پروقار پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی کے افراد اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز پاکستانی قیادت کے خصوصی پیغامات سے ہوا، جس کے بعد پاکستان کے متحدہ عرب امارات میں سفیر فیصل نیاز ترمذی نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے قوم کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اتحاد، یقین اور قربانی جیسے سنہری اصولوں کو پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کی بنیاد قرار دیا اور ملک کی خوشحالی، امن و استحکام کے لیے دعا کی۔

حالیہ بیرونی جارحیت کے تناظر میں سفیر نے پاکستانی قوم کی جرات، استقامت اور اتحاد کو سراہتے ہوئے مارکۂ حق اور آپریشن بنیان المرصوص میں کامیابی کو تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں پاکستان کی قومی قوتِ ارادی اور پیشہ ورانہ مہارت کی عملی عکاس ہیں۔

پاکستانی سفیر نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے ان کی ملکی ترقی میں خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال متحدہ عرب امارات سے پاکستان کو 7.

9 ارب امریکی ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جو ملک کی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہیں۔

انہوں نے سفارتخانے کی آئی ٹی ٹیم کو سراہتے ہوئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آن لائن پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ (NICOP) کی ٹریکنگ سروس کا آغاز کرنے کا اعلان کیا، جس سے قونصلر خدمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

تعلیم کے میدان میں تاریخی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ 20 سال بعد دو کمیونٹی اسکولوں نے "Good" درجہ حاصل کیا ہے۔ مزید یہ کہ متعدد پاکستانی نجی اسکولوں سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ وہ یو اے ای میں اپنی شاخیں کھولیں اور کمیونٹی کو معیاری اور سستی تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

سفیر نے یو اے ای حکومت کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے رواں سال کا جشنِ یوم آزادی شاندار اور تاریخی سطح پر منایا گیا۔ دبئی ایکسپو سٹی میں ہونے والی تقریب، جس میں تقریباً 60,000 افراد شریک ہوئے، دنیا بھر میں یوم آزادی پاکستان کی سب سے بڑی تقریب ثابت ہوئی۔

تقریب کے دوران بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق علامہ اقبال کے پورٹریٹس، جو کہ معروف مصور منظور کے حضرت نے سفارتخانے کو تحفے میں دیے، کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔ تقریب کا اختتام بچوں کے قومی نغموں کی پرفارمنس پر ہوا، جس نے محفل میں حب الوطنی کا رنگ بھر دیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات انہوں نے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا