نئی دہلی: پاکستان ہائی کمیشن میں یومِ آزادی کی پروقار تقریب
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
نئی دہلی میں پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان ہائی کمیشن نے ایک شاندار پرچم کشائی تقریب منعقد کی ۔
تقریب کا آغاز چانسلری لان پر چارج ڈی افیئر سعد احمد وڑائچ نے پاکستانی پرچم بلند کرکے کیااورصدرِ مملکت، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم کے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔
سعد احمد وڑائچ نے اپنے جذباتی خطاب میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے آزادی کی قدر کو ایک انمول نعمت قرار دیا، جس کا دفاع ہر دور میں ضروری ہے۔
سعد احمد وڑائچ نے کہاکہ یومِ آزادی وہ دن ہے جب مسلمانوں نے اپنی خود ارادیت کا خواب تعبیر میں تبدیل کیا، اور قائداعظم کی رہنمائی نے تاریخ کا رخ بدل دیا
تقریب میں کون کون شامل تھا؟ تمام ہائی کمیشن کے افسران، عملہ اور ان کے اہلِ خانہ نے شرکت کی، جس نے ایک خاندانی اور قومی احساس کو اجاگر کیا۔
پیغامات کا اعتراف: صدر اور وزراء کے پیغامات نے آج کے دور میں قومی یکجہتی اور حکمت عملی کے تصور کو مزید تقویت دی۔
یہ تقریب صرف ایک رسمی اجتماع نہیں تھی—بلکہ ایک موقع تھا جب وطن سے دور بسنے والے پاکستانی اپنے جذبات، تاریخ اور قومیت سے جڑے رہنے کا عہد دوبارہ کیا۔ اداؤں میں قوم کی عظمت، خدمتِ خلق اور مشترکہ مستقبل کی امید جلوہ گر تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔