لاہور (خبرنگار) 14 اگست کے موقع پر لاہور ہائیکورٹ میں یوم آزادی کی پروقار پرچم کشائی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ہائیکورٹ کی عمارت پر قومی پرچم بلند کیا۔ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے چیف جسٹس کو گارڈ آف آنر اور سلامی پیش کی۔ یہ پہلا موقع ہے لاہور ہائیکورٹ میں پرچم کشائی کا اعزاز کسی خاتون چیف جسٹس کو حاصل ہوا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں جسٹس عالیہ نیلم نے کہا  یہ ہمارے لیے باعث مسرت ہے کہ ہم اپنا 78واں یومِ آزادی منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا  ملک کی ترقی قائداعظم کے ویژن کے مطابق اداروں کی کارکردگی سے جڑی ہوئی ہے، اور پنجاب کی عدلیہ عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ صوبہ بھر میں ماڈل کورٹس کے قیام کے احکامات جاری ہو چکے ہیں جبکہ زیرالتواء  مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، اس کے لیے لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ میں مخصوص بنچز قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعا کی  "ہمارا ملک تاقیامت قائم و دائم رہے، انشاء اللہ"۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی و ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ تقریب میں لاہور ہائیکورٹ کے معزز ججز جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس سید شہباز علی رضوی، جسٹس علی ضیاء  باجوہ، جسٹس جواد ظفر، جسٹس ملک  اویس خالد، جسٹس خالد اسحاق اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر سمیت دیگر ججز شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ سیکرٹری ٹو چیف جسٹس  طارق، ایڈیشنل رجسٹرار  کاشف، ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب شہزادہ سلطان، ڈی آئی جی سکیورٹی اویس ملک اور دیگر افسروں نے بھی شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ چیف جسٹس

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور