پاکستانی نژاد برطانوی طالبہ نے 6 عالمی تعلیمی ریکارڈز اپنے نام کر لئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستانی نژاد برطانوی طالبہ نے 6 عالمی تعلیمی ریکارڈز اپنے نام کر لئے۔
لندن کی 18 سالہ ماہ نور چیمہ، جو پاکستانی نژاد برطانوی ہیں، نے تعلیمی تاریخ رقم کر دی، انہوں نے 24 اے لیول مضامین میں شاندار کامیابی حاصل کر کے چار نئے عالمی ریکارڈ توڑ دیئے۔
اس سے قبل اپنے جی سی ایس ای کے نتائج کے ساتھ وہ مجموعی طور پر 6 عالمی تعلیمی ریکارڈ اپنے نام کر چکی ہیں، جو کسی بھی سکول کے طالب علم کیلئے دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔
جشن آزادی:پنجاب کے 41 اضلاع میں بیک وقت آتشبازی
ماہ نور کو طب (میڈیسن) کی تعلیم کیلئے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ بھی مل گیا ہے، جسے وہ اپنی بچپن کی خواہش کی تکمیل قرار دیتی ہیں۔
ماہ نور کے مطابق یہ سب کچھ ان کے والدین کی قربانیوں کی بدولت ممکن ہوا، وہ 2006 میں والدین کے ساتھ لاہور سے برطانیہ منتقل ہوئیں اور مختلف سکولوں میں تعلیم کے بعد آخری سال ہوم اسکولنگ کی۔
وہ موسیقی میں ڈپلومہ، اداکاری اور پبلک سپیکنگ میں گولڈ میڈلز اور دنیا کی اعلیٰ آئی کیو سوسائٹی ’مینسا‘ کی رکنیت بھی رکھتی ہیں، ان کی کامیابیوں کو پاکستان کے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شہباز شریف نے بھی سراہا، اور انہیں ’قوم کی بیٹی‘ قرار دیا۔
پنجاب میں جشنِ آزادی پر 41 اضلاع میں بیک وقت آتشبازی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔