اربعین ظلم کے خلاف بغاوت اور مظلوم سے وفاداری کا اعلان ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اپنے پیغام میں چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ آج جب غزہ کے معصوم بچے بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں اور ظالم طاقتیں ان کا خون بہا رہی ہیں، تو مکتبِ حسینیتؑ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی زبان، قدم اور وسائل سے مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ آج ملک بھر میں اربعین امام حسینؑ کے جلوسِ عزاء برآمد ہو رہے ہیں، اربعین صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ظلم کے خلاف بغاوت اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا دوٹوک اعلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کی سرزمین پر امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی قربانی وقت اور جگہ کی قید سے آزاد، ہر دور اور ہر قوم کے لیے حریت و عدل کا پیغام ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ امام حسینؑ نے یزیدیت کے مقابل حق کا علم بلند کیا اور یہ درس دیا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا جرم ہے، آج جب غزہ کے معصوم بچے بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں اور ظالم طاقتیں ان کا خون بہا رہی ہیں، تو مکتبِ حسینیتؑ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی زبان، قدم اور وسائل سے مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔
انہوں نے حکومت اور تمام اداروں کو متنبہ کیا کہ اربعین کے جلوس میں پیدل شریک ہونے والے عزاداران کو ہراساں نہ کیا جائے، یہ عزاداران کا آئینی، قانونی اور مذہبی حق ہے جس پر کسی قسم کی قدغن ناقابلِ برداشت ہے، عزاداری کو روکنے یا محدود کرنے کی ہر کوشش کروڑوں عاشقانِ حسینؑ کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربعین کا پیغام واضح ہے کہ ہم کسی بھی دور کے یزید کو تسلیم نہیں کریں گے، چاہے وہ ماضی کا ہو یا آج کا اسرائیل اور امریکہ، ہم ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے، چاہے وہ اسیرانِ کربلا ہوں یا غزہ میں بھوک اور پیاس سے دم توڑتے معصوم بچے، ہم نے کل بھی حق کا پرچم بلند رکھا، آج بھی اسی پرچم تلے ڈٹے ہیں اور قیامت تک حسینؑ کے وفادار رہیں گے، ہماری سانسیں مظلوم کی ڈھال اور ہمارا خون ظالم کے خلاف ہتھیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ اور ظالم کے خلاف
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔