مقبوضہ کشمیر میں قیامت خیز سیلاب سے 60 ہلاک، درجنوں لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
شدید بارش اور اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب نے کشتواڑ کے علاقے چسوتی گاؤں میں قیامت برپا کر دی، جس میں اب تک کم از کم 60 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 80 سے زائد لاپتہ ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں ہندو یاتری بھی شامل ہیں جو ایک مقامی مزار پر حاضری کے لیے آئے تھے۔
حکام کے مطابق اچانک آنے والا "کلاؤڈ برسٹ" گاؤں میں بہا کر بڑے پیمانے پر تباہی لے آیا، جس سے ایک عارضی کچن سمیت درجنوں ڈھانچے بہہ گئے۔
فوج، ریسکیو ٹیمیں اور بھاری مشینری مٹی، چٹانوں اور ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق پانی کا بڑا ریلا آنے سے ایسا محسوس ہوا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ تقریباً 50 زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور غیر منصوبہ بند ترقی کے باعث مون سون کے دوران اس طرح کے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کی تقریر میں اس سانحے پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاستی و مرکزی حکومتیں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔