چیف جسٹس کی پنشن و مراعات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وزارت قانون نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ملنے والی پنشن و مراعات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کردیں۔
وزارت قانون نے سینیٹ میں اپنے تحریری جواب میں سال 2010 سے 2024 تک پنشن میں کیے گئے اضافے کی تفصیلات پیش کردیں۔
وزارت قانون کے مطابق 2010 میں چیف جسٹس کو 5 لاکھ 60 ہزار پنشن ملتی تھی، 2011 میں چیف جسٹس کی پنشن 6 لاکھ 44 ہزار ہوگئی، 2012 میں 7 لاکھ 73 ہزار، 2013 میں 8 لاکھ 50 ہزار اور 2014 میں 9 لاکھ 35 ہزار ہوگئی۔
2015 میں چیف جسٹس کی پنشن 10 لاکھ 5 ہزار، 2016 میں 11 لاکھ 5 ہزار، 2017 میں 12 لاکھ 17 ہزار، 2018 میں 13 لاکھ 38 ہزار، 2021 میں 14 لاکھ 52 ہزار، 2023 میں 16 لاکھ 57 ہزار اور 2024 میں چیف جسٹس کی پنشن 23 لاکھ 90 ہزار ہوگئی۔
چیف جسٹس کی بیوہ کو ملنے والی پنشن کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کی گئیں جس کے مطابق جج کی بیوہ کو ڈرائیور اور اردلی کے ساتھ ساتھ ماہانہ 3 ہزار لوکل ٹیلی فون کالز، 2 ہزار یونٹ بجلی، 300 لیٹر پیٹرول اور مفت پانی کی سہولت بھی حاصل ہے۔ جج کی بیوہ سے انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔
دریں اثنا سینیٹ اجلاس میں پیٹرولیم ترمیمی بل 2025 بھی پیش کردیا گیا جسے بحث کے بعد قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا گیا۔ بل وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے ایوان میں پیش کیا۔
سینیٹ میں ورچوئل ایسٹیس آرڈیننس 2025 بھی پیش کیا گیا جو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا، آرڈیننس پیش کرنے پر مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ ناراض ہوکر ایوان سے چلے گئے جنہیں بعد میں حکومتی سینیٹرز منا کر واپس لے آئے۔
سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ یہ بل میرا ہے، اس پر سارا کام میں نے کیا ہے، یہ بل میں نے کئی ماہ لگا کر بنایا تھا، اس بل کو پہلے بلاک کردیا، اس بل کو کاپی کرکے اب حکومت لے آئی، یہ چیٹنگ میں آتا ہے، جس نے کام کیا ہے اس کو کریڈٹ ملنا چاہئے۔
وفاقی وزیرکامرس جام کمال خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کو سب سے اچھا ٹیرف امریکہ سے ملا ہے، اس ٹیرف کے بدلے ہمارے اوپر امریکا کی طرف سے کوئی بائنڈنگ بھی نہیں ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ اسٹریٹجک ٹیرف پالیسی 2021 میں فریم ورک بنایا گیا، ہماری حکومت نے پہلی دفعہ ٹیرف کمیٹی کو آرگنائز کیا ہے، بہت سارے آئٹمز ایسے ہیں جو پاکستان میں بنتے ہی نہیں ان پر ٹیرف برقرار رکھا گیا، ہم نے ان تمام آئٹمز کو دیکھا بہت ساری اشیاء پر ٹیرف کو کم کیا گیا۔
ایوان بالا میں نبی کریم ﷺ کے 1500 ویں جشن ولادت پر قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، قرارداد سینیٹر عرفان صدیقی نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ تمام وفاقی اور صوبائی حکومتیں شایان شان طریقے سے عید میلاد النبی ؐ منائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس کی پنشن میں چیف جسٹس کی تفصیلات سینیٹ میں میں پیش پیش کی
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔