سی ٹی ڈی کا پشاور میں بڑا آپریشن ، 3 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
پشاور کے علاقے ریگی للمہ میں سی ٹی ڈی کے آپریشن کے دوران 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔سی ٹی ڈی کے حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں افغان شہری دہشت گرد عبداللہ عرف جواد بھی شامل ہے، جو دہشت گردی کے متعدد واقعات میں مطلوب تھا۔عبداللہ عرف جواد پشاور میں 18 دہشت گردی کے حملوں میں ملوث تھا، جن میں 12 پولیس اور ایف سی اہلکار شہید ہوئے تھے، جبکہ کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ان حملوں میں ڈی ایس پی سردار حسین سمیت 5 پولیس اہلکار، 2 ایف سی اہلکار اور دیگر جوان نشانہ بنے۔سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ ہلاک دہشت گردوں کا گروہ پولیس موبائلوں کو نذر آتش کرنے، بھتہ خوری، آئی ای ڈی دھماکوں اور فائرنگ کی وارداتوں میں ملوث تھا۔اس گروہ کا تعلق ٹی ٹی پی سیل سے تھا اور یہ غیر ملکی ہینڈلرز اور فنڈنگ کے ساتھ مزید دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی پر ان کی تعریف کی اور کہا کہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کا خاتمہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔