لندن: برطانیہ میں پولیس کے لیے پالیسی میں اہم تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت ہائی پروفائل اور حساس مقدمات میں مشتبہ افراد کی قومیت اور نسلی پس منظر کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کی اجازت دی جا رہی ہے، تاکہ سوشل میڈیا پر جھوٹی یا گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

یہ فیصلہ پچھلے سال پیش آنے والے ایک بڑے واقعے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی و سماجی دباؤ کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔

جولائی 2024 میں برطانیہ کے شہر ساؤتھ پورٹ میں پیش آئے ایک ہولناک واقعے کے بعد یہ مسئلہ شدت سے سامنے آیا، جب تین کم سن لڑکیوں کو ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ 

اس واقعے کے بعد آن لائن افواہیں گردش کرنے لگیں کہ حملہ آور ایک کم عمر تارکِ وطن ہے۔ ان جھوٹی خبروں نے عوامی اشتعال کو بھڑکا دیا، نتیجتاً ملک کے مختلف حصوں میں شدید ہنگامے اور فسادات پھوٹ پڑے۔

اس واقعے نے حکومت اور پولیس کو تنقید کے نشانے پر لا کھڑا کیا۔ مخالفین نے الزام لگایا کہ پولیس حساس کیسز میں جان بوجھ کر ملزمان کی قومیت یا امیگریشن اسٹیٹس کو چھپاتی ہے تاکہ عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔ 

گزشتہ ہفتے ریفارم یوکے پارٹی نے ایک اور کیس میں پولیس پر یہی الزام عائد کیا — وسطی انگلینڈ میں ایک 12 سالہ لڑکی کے مبینہ ریپ میں ملوث ملزمان کے بارے میں کہا گیا کہ پولیس نے ان کی امیگریشن حیثیت چھپائی۔ بعد ازاں، مقامی کونسل کے ایک رہنما نے عوامی طور پر دعویٰ کیا کہ ملزمان پناہ گزین ہیں، جس کے بعد ایک بار پھر امیگریشن مخالف احتجاج شروع ہو گیا۔

اس وقت برطانیہ میں پولیس کے لیے یہ اصول موجود ہے کہ وہ صرف اتنی معلومات شیئر کرے جو کسی ملزم کو منصفانہ ٹرائل فراہم کرنے کے لیے ضروری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قومیت اور امیگریشن حیثیت جیسی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔

تاہم، نیشنل پولیس چیفس کونسل (NPCC) اور کالج آف پولیسنگ کی جانب سے جاری کی گئی نئی ہدایات کے مطابق اب پولیس فورسز کو "ترغیب" دی جائے گی کہ جہاں کسی واقعے سے متعلق جھوٹی یا متضاد معلومات تیزی سے پھیل رہی ہوں، وہاں عوامی مفاد کے تحت نسلی یا قومیتی پس منظر جیسی تفصیلات شیئر کی جائیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم ایک طرف شفافیت اور عوامی اعتماد بڑھا سکتا ہے، مگر دوسری جانب خطرہ ہے کہ اس سے نسلی تعصب اور امیگریشن مخالف جذبات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کچھ کارکنان کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا غلط استعمال مخصوص برادریوں کو نشانہ بنانے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جھوٹی خبروں اور افواہوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے کے بعد

پڑھیں:

اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی

سٹی 42 : اوباڑو اور گردونواح میں تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی ہوگئے ۔ 

پولیس کے مطابق زخمیوں میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، تعلقہ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر اوباڑو کی ہدایت پر اسپتال کے تمام عملے کو الرٹ کر دیا گیا۔ 

اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

اسسٹنٹ کمشنر صحیب الاہی کا کہنا ہےکہ شدید آندھی کے باعث مختلف علاقوں میں حادثات پیش آئے، زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں