برطانوی پولیس کو مشتبہ افراد کی نسلی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
لندن: برطانیہ میں پولیس کے لیے پالیسی میں اہم تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت ہائی پروفائل اور حساس مقدمات میں مشتبہ افراد کی قومیت اور نسلی پس منظر کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کی اجازت دی جا رہی ہے، تاکہ سوشل میڈیا پر جھوٹی یا گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
یہ فیصلہ پچھلے سال پیش آنے والے ایک بڑے واقعے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی و سماجی دباؤ کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔
جولائی 2024 میں برطانیہ کے شہر ساؤتھ پورٹ میں پیش آئے ایک ہولناک واقعے کے بعد یہ مسئلہ شدت سے سامنے آیا، جب تین کم سن لڑکیوں کو ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد آن لائن افواہیں گردش کرنے لگیں کہ حملہ آور ایک کم عمر تارکِ وطن ہے۔ ان جھوٹی خبروں نے عوامی اشتعال کو بھڑکا دیا، نتیجتاً ملک کے مختلف حصوں میں شدید ہنگامے اور فسادات پھوٹ پڑے۔
اس واقعے نے حکومت اور پولیس کو تنقید کے نشانے پر لا کھڑا کیا۔ مخالفین نے الزام لگایا کہ پولیس حساس کیسز میں جان بوجھ کر ملزمان کی قومیت یا امیگریشن اسٹیٹس کو چھپاتی ہے تاکہ عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے ریفارم یوکے پارٹی نے ایک اور کیس میں پولیس پر یہی الزام عائد کیا — وسطی انگلینڈ میں ایک 12 سالہ لڑکی کے مبینہ ریپ میں ملوث ملزمان کے بارے میں کہا گیا کہ پولیس نے ان کی امیگریشن حیثیت چھپائی۔ بعد ازاں، مقامی کونسل کے ایک رہنما نے عوامی طور پر دعویٰ کیا کہ ملزمان پناہ گزین ہیں، جس کے بعد ایک بار پھر امیگریشن مخالف احتجاج شروع ہو گیا۔
اس وقت برطانیہ میں پولیس کے لیے یہ اصول موجود ہے کہ وہ صرف اتنی معلومات شیئر کرے جو کسی ملزم کو منصفانہ ٹرائل فراہم کرنے کے لیے ضروری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قومیت اور امیگریشن حیثیت جیسی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔
تاہم، نیشنل پولیس چیفس کونسل (NPCC) اور کالج آف پولیسنگ کی جانب سے جاری کی گئی نئی ہدایات کے مطابق اب پولیس فورسز کو "ترغیب" دی جائے گی کہ جہاں کسی واقعے سے متعلق جھوٹی یا متضاد معلومات تیزی سے پھیل رہی ہوں، وہاں عوامی مفاد کے تحت نسلی یا قومیتی پس منظر جیسی تفصیلات شیئر کی جائیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم ایک طرف شفافیت اور عوامی اعتماد بڑھا سکتا ہے، مگر دوسری جانب خطرہ ہے کہ اس سے نسلی تعصب اور امیگریشن مخالف جذبات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کچھ کارکنان کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا غلط استعمال مخصوص برادریوں کو نشانہ بنانے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جھوٹی خبروں اور افواہوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔