جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر نیشنل گارڈ کے فوجی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر گشت کرتے اور بے گھر افراد کے کیمپ صاف کرتے دکھائی دیے۔ ٹرمپ نے شہر میں گارڈ کی تعیناتی کو ’قابو سے باہر جرائم‘ کو روکنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے، حالانکہ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں واشنگٹن میں جرائم کی شرح یا تو کم ہوئی ہے یا تقریباً برقرار رہی ہے۔

فوجی دستے، جو کیموفلاج وردی میں تھے، شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے باہر گشت کرتے اور بڑے وفاقی آپریشن سے پہلے بے گھر افراد کے عارضی ٹھکانوں کو ختم کرتے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے لاس اینجلس مظاہرے، نیشنل گارڈز کے بعد 700 میرینز بھی تعینات، بغاوت کا خطرہ ہے، ٹرمپ

یہ آپریشن جمعرات کی شام مقامی وقت کے مطابق 6 بجے کے بعد مارٹن لوتھر کنگ جونیئر میموریل لائبریری کے قریب شروع ہوا، جہاں بیشتر بے گھر افراد پہلے ہی علاقے سے جا چکے تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ انہیں پناہ گاہوں میں جانے کی ترغیب دی گئی تھی۔

ڈپٹی میئر برائے صحت و انسانی خدمات کے دفتر کے بیان میں کہا گیا:
’ضلعی حکومت نے بے گھر شہریوں کے ساتھ پیشگی رابطہ کیا تاکہ انہیں سہولیات اور پناہ گاہوں کی پیشکش کی جا سکے۔ ڈی سی صفائی اور دیگر سروسز فراہم کرے گا، لیکن یہ کارروائیاں مکمل طور پر وفاقی اداروں کے دائرہ اختیار میں ہیں۔‘

14ویں اسٹریٹ نارتھ ویسٹ کے علاقے میں کئی مقامی رہائشیوں نے فوجی موجودگی پر تنقید کی اور کچھ نے فوجیوں پر طنزیہ نعرے لگائے۔ ایک مظاہرین نے چیخ کر کہا: ’گھر جاؤ، فاشسٹ!‘ اور ’ہماری سڑکوں سے دفع ہوجاؤ‘۔ بعض لوگ چیک پوائنٹ پر کھڑے ہو کر گاڑیوں کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے واشنگٹن میں وفاقی پولیس کا پہلا آپریشن، قتل اور منشیات سمیت مختلف جرائم پر گرفتاریاں

واشنگٹن کی ڈیموکریٹک میئر موریل باؤزر نے اس اقدام پر ملا جلا ردعمل دیا۔ انہوں نے ایک طرف اسے ’آمریت پسندانہ دباؤ‘ کہا، لیکن ساتھ ہی ہفتے کے آغاز میں اضافی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی موجودگی کو ممکنہ طور پر ’مثبت‘ قرار دیا۔

بعض مظاہرین نے کھل کر سخت مؤقف اپنایا۔ ایک شہری رائن زیتو نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا:
’یہ ایک کھلے عام فاشسٹ اور پرتشدد حکومت کے غنڈے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

شہری کونسل کے رکن چارلس ایلن نے بتایا کہ یہ وفاقی آپریشن شمال مغربی واشنگٹن اور اس کے آس پاس کے 25 مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس آپریشن کی تفصیلات واضح طور پر نہیں دی گئیں اور نہ ہی وائٹ ہاؤس نے مقامی حکام کو باضابطہ آگاہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیشنل گارڈ کی تعیناتی اب 24 گھنٹے جاری رہے گی اور یہ ابتدائی 30 دن کے شیڈول سے زیادہ عرصہ تک چلے گی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق داخلی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ مستقبل میں اسی طرز کے آپریشن دوسرے مقامات پر بھی شروع کر سکتے ہیں، جن میں ایلاباما اور ایریزونا کے فوجی اڈوں پر 600 تک نیشنل گارڈ کے اہلکار بھیجے جا سکتے ہیں، اور مزید دستے ’ری ایکشن فورس‘ کے طور پر مختلف ریاستوں میں تعینات ہو سکتے ہیں تاکہ پُرتشدد شہری واقعات اور جرائم پر قابو پایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی نیشنل گارڈز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی نیشنل گارڈز نیشنل گارڈ بے گھر

پڑھیں:

بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔

رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی