پشاور: 18 حملوں میں ملوث 3 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
پشاور کے علاقے ریگی للمہ میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائی میں 3 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گرد 18 حملوں میں ملوث تھے، دہشت گردوں میں عبداللّٰہ نامی افغان شہری کی شناخت ہو گئی ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے ایم فور، ایم 16، ایس ایم جی، آئی ای ڈی و دیگر اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں پولیس پر 5 دہشت گرد حملوں میں 5 اہلکار شہید اور 5 زخمی ہوگئے۔
دہشت گردوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے غیر ملکی نیٹ ورک سے تھا۔
ہلاک دہشت گرد شہید ڈی ایس پی سردار حسین اور دیگر اہلکاروں کی شہادت میں ملوث تھے، ہلاک دہشت گرد مزید حملوں کی منصوبہ بندی بھی کر رہے تھے۔
دوسری جانب آئی جی خیبر پختون خوا ذوالفقار حمید نے گزشتہ شب دہشت گرد حملوں سے متعلق کہا ہے کہ گزشتہ رات 80 فیصد حملے پسپا کیے، 2 حملوں میں پولیس کا جانی نقصان ہوا، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بھرپور مقابلہ کیا۔
آئی جی کے مطابق 13 اور 14 اگست کی شب پولیس نے بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کے 14 میں سے 11 حملے بغیر کسی نقصان کے کامیابی سے ناکام بنا دیے۔
بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج نے یومِ آزادی کی رات حملے کر کے ملک دشمنی اور ہندوستانی فتنہ ہونےکا ثبوت دیا، پولیس کے غیور جوانوں نے مٹی کا فرض ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس دہشت گردوں کی کسی بھی بزدلانہ مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حملوں میں
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔