جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بادل پھٹنے کا قہر، 30 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
عینی شاہدین نے بتایا کہ اس مقام پر سینکڑوں ہندو عقیدتمند دوپہر کا کھانا کھانے کیلئے جمع تھے اور کچھ لوگ اپنی گاڑیوں میں آرام کر رہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں مچیل کے راستے چشوتی علاقے میں آج بادل پھٹنے کے بعد سیلاب سے کم از کم 30 افراد کی موت واقع ہوگئی ہے اور دیگر 125 زخمی ہیں۔ واقعہ میں متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ یہ واقعہ آج دوپہر تقریباً 12:30 بجے اس وقت پیش آیا جب مچیل ماتا مندر کے درشن کے لئے جانے والے یاترا ایک لنگر میں کھانا کھا رہے تھے۔ یہ مقام پدر کے علاقے کا آخری مقام ہے جہاں تک گاڑیاں آتی ہیں اور یہاں سے عقیدتمند تقریباً 10 کلومیٹر پیدل سفر کرتے ہوئے مچیل مندر تک پہنچتے ہیں۔ ایک زوردار آواز سنائی دی اور اچانک سیلاب کا پانی علاقہ سے ٹکرایا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سول، پولیس، آرمی، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بچاؤ اور راحت کے کاموں میں تیزی لائے اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو یقینی بنائیں۔
کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر پنکج کمار شرما نے بتایا کہ اب تک 30 لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور فی الحال زخمیوں کو منتقل کرنے کے لئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ لاپتہ افراد کا پتہ لگانے کے لئے بھی تلاشی مہم تیزی سے جاری ہے لیکن صورتحال بہت سنگین ہے۔ فی الحال لاپتہ ہونے والوں کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ اب تک 75 زخمیوں کو بچا لیا گیا ہے اور انہیں اتھولی پدر میں واقع بنیادی مرکز صحت اور ضلع ہسپتال کشتواڑ منتقل کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس مقام پر سینکڑوں عقیدتمند دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے جمع تھے اور کچھ لوگ اپنی گاڑیوں میں آرام کر رہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ سیلابی ریلے میں کئی گاڑیاں بہہ گئیں اور لنگر کے قریب کچھ مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ ڈی سی اور ایس ایس پی کشتواڑ فوری طور پر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لئے جائے وقوع پر پہنچ گئے اور ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس، سول انتظامیہ اور مقامی این جی اوز کارروائیوں کے لیے موقع پر پہنچ گئے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے واقعہ میں ہلاکتوں کا افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایکس پر ٹوئٹ کیا "میری تعزیت اور دعائیں جموں و کشمیر کے کشتواڑ میں بادل پھٹنے اور سیلاب سے متاثر ہونے والوں کے ساتھ ہیں، صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے، ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی"۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ کشتواڑ ضلع میں بادل پھٹنے پر جموں و کشمیر کے ایل جی اور وزیراعلیٰ سے بات کی۔ مقامی انتظامیہ راحت اور بچاؤ کا کام کر رہی ہے۔ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ ہوگئی ہیں۔ ہم حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر صورتحال میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں، ضرورت مند لوگوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جموں و کشمیر کے نے بتایا کہ ڈی آر ایف کے لئے
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔