ایس یو سی کے مرکزی نائب صدر کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عزاداری سید الشہدا دین خدا کی بقا کی ضامن ہے، حسین نکتہ وحدت اُمت اور نام ہے مظلوم کی حمایت اور ظلم کیخلاف آواز اٹھانے کا، اسرائیل غزہ، فلسطین اور انڈیا کشمیرمیں ظلم کر رہا ہے، اسرائیل و امریکہ جس انداز میں امت مسلمہ کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں وہ قابل مذمت ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے مرکزی جلوس چہلم امام حسینؑ میں شرکت کے موقع پر علامہ فرحت عباس جوادی، مولانا رضا محمد خان، مولانا قمر عباس جعفری، مولانا عبدالمجید اور علی عباس نقوی کے ہمراہ کمیٹی چوک پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں سید الشہدا حضرت امام حسینؑ کا چہلم نہایت عقیدت و احترام و مذہبی جذبے سے منایا جا رہا ہے، عزاداری سید الشہدا دین خدا کی بقا کی ضامن ہے، عزاداری میں رکاوٹیں ڈالنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، حسینؑ نکتہ وحدت اُمت اور نام ہے مظلوم کی حمایت اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا۔ چہلم امام حسینؑ میں صرف شیعہ شریک نہیں ہوتے بلکہ تمام مسالک اور تمام مذاہب کے لوگ شریک ہوتے ہیں اور ان کی شرکت اتحاد بین المسلمین کی واضح مثال اور نواسہ رسول اکرم ۖ سے اظہار عشق ہے کیونکہ امام حسینؑ نے اسلامی اقدا ر کو زندہ کیا۔

علامہ عارف حسین واحدی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سیکورٹی کے انتظامات تسلی بخش ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے عزاداری سید الشہدا میں رکاوٹیں ڈالنا ہمیں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے، دو روز قبل پنجاب حکومت سے بڑے تفصیلی مذاکرات ہوئے جس میں وزرا، ہوم سیکرٹری، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جیز و دیگر اداروں کے سربراہان موجود تھے۔ تین گھنٹے کی میٹنگ میں مثبت گفتگو ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ عزاداری کسی کیخلاف نہیں لہذا اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے، پنجاب میں بعض مقامات پر عزاداروں کی بلاوجہ خلاف آئین و قانون گرفتاریاں ہوئی تھیں جس پر پنجاب انتظامیہ نے بہت سے گرفتار اعزاداروں کو رہا کر دیا لیکن کل سے پھر عزاداروں کی گرفتاریاں سننے میں آرہی ہیں جو درست اقدام نہیں اس سلسلے میں ابھی کچھ دیر پہلے ہوم سیکرٹری پنجاب سے رابطہ ہوا ہے جس پر انہوں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے امید ہے کہ تمام مسائل خوش اسلوبی سے طے ہو جائیں گے۔

علامہ عارف واحدی نے آخر میں کہا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام ہے کہ عزادار پر امن لوگ ہیں ہم نے پاکستان میں اتحادو وحدت کے فروغ کیلئے بنیادی کردار ادا کیا ہے اور ہم اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے، عزاداری میں کوئی رکاوٹ ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تما م دنیا کے مظلوموں کے حامی ہیں غزہ، فلسطین کی صورتحال پر قلب زخمی ہے، انڈیا ظلم کر رہا ہے کشمیر میں اور اسرائیل و امریکہ جس انداز میں امت مسلمہ کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں وہ قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روز آزادی پاکستان بھی چہلم کے ساتھ آگیا ہمارا شہداء آزادی سے عہد ہے کہ وطن عزیز میں امن و امان، اتحاد و حدت اور استحکام پاکستان کیلئے اپنی جدوجہد بھرپور طور پر جاری رکھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عزاداری سید الشہدا علامہ عارف قبول نہیں کہا کہ

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم