چین میں پاک بحریہ کی تیسری ہنگور کلاس آبدوز پی این ایس ایم مانگرو (MANGRO) کی لانچنگ تقریب
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) چین میں پاک بحریہ کی تیسری ہنگور کلاس آبدوز پی این ایس ایم مانگرو (MANGRO) کی لانچنگ تقریب کا انعقاد ہوا ۔ ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف پراجیکٹ-2 وائس ایڈمرل عبد الصمد تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔لانچنگ تقریب میں پاکستان اور چین کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وفاقی حکومت سیلابی آفت میں بھی خیبر پختونخوا کے بہن بھائیوں کیساتھ کھڑی ہے: حنیف عباسی
آئی ایس پی آر کے مطابق وائس ایڈمرل عبد الصمد نے اس بات پر زور دیا کہ پاک بحریہ محفوظ اور مشترکہ ماحول کو فروغ دیتے ہوئے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ وائس ایڈمرل عبد الصمد نے کہا کہ ہنگور کلاس آبدوزیں خطے میں طاقت کا توازن اور امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گیں-یہ پراجیکٹ یقینی طور پر پاک چین دوستی میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرے گا ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت پاکستان نے چین کے ساتھ 8 ہنگور کلاس آبدوزوں کے حصول کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔معاہدے کے تحت 4 آبدوزیں چین میں اور 4 کراچی شپ یارڈ میں ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے تحت تعمیر کی جائیں گی۔
یوکرین نےسہ فریقی ملاقات کی حمایت کر دی
یہ آبدوزیں جدید ترین ہتھیاروں اور سینسرز سے لیس ہوں گی جس سے دور تک اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ہنگور کلاس
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔