ایئر کینیڈا کے فضائی میزبانوں کی ہڑتال، سروس معطل
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
ایئر کینیڈا کے فضائی میزبان (فلائٹ اٹینڈنٹس) ہفتے کے روز ہڑتال پر چلے گئے جس کے نتیجے میں کمپنی کی سروس معطل ہو گئی ہے اور روزانہ ایک لاکھ 30 ہزار مسافروں کے لیے سفری سیزن میں مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’کینیڈا کی سڑک پر ’ٹریفک جام‘ کا مزہ‘
ایئر کینیڈا کے 10 ہزار فلائٹ اٹینڈنٹس کی نمائندگی کرنے والی کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائیزنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم اب باضابطہ طور پر ہڑتال پر جا چکے ہیں۔
کینیڈین فضائی کمپنی روزانہ تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ کمپنی نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ممکنہ ہڑتال سے قبل وہ بتدریج اپنی پروازوں کو معطل کرنا شروع کر دے گی۔
جمعے کی شب 8 بجے تک ایئر لائن نے اعلان کیا کہ اس نے 623 پروازیں منسوخ کر دی ہیں جس سے ایک لاکھ سے زائد مسافر متاثر ہوئے۔
یونین کا کہنا ہے کہ وہ صرف تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ ایسے زمینی کام جیسے کہ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران کی جانے والی ڈیوٹی کا بھی معاوضہ چاہتی ہے جس کا فی الحال کوئی حساب نہیں ہوتا۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سینٹر فار انڈسٹریل ریلیشنز کے سربراہ رافیل گومز کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں یہ عام رواج ہے کہ فلائٹ اٹینڈنٹس کو صرف ہوا میں گزارے گئے وقت کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونین نے اس مسئلے پر ایک مؤثر عوامی مہم چلائی ہے جس سے عوامی تاثر یہ بنا ہے کہ ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ کا کینیڈا پر 35 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ایک عام مسافر جسے انڈسٹری کے اصولوں کا علم نہیں یہ سوچ سکتا ہے کہ میں بورڈنگ کے دوران انتظار کر رہا ہوں اور ایک فلائٹ اٹینڈنٹ میری مدد کر رہا ہے لیکن اسے اس وقت کی تنخواہ نہیں دی جا رہی۔
ایئر کینیڈا نے جمعرات کو بتایا کہ اس معاہدے کے تحت سنہ 2027 تک ایک سینیئر فلائٹ اٹینڈنٹ کی اوسط سالانہ تنخواہ 87،000 کینیڈین ڈالر (تقریباً 65,000 امریکی ڈالر) ہوگی۔
تاہم یونین نے ایئر کینیڈا کی اس پیشکش کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ مہنگائی کی شرح اور مارکیٹ ویلیو سے کم ہے۔
یونین نے حکومت اور ایئر لائن کی جانب سے آزادانہ ثالثی (arbitration) کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
رافیل گومز کا کہنا تھا کہ اگرچہ فلائٹ اٹینڈنٹس ہڑتال پر ہیں لیکن وہ توقع نہیں رکھتے کہ یہ ہڑتال طویل عرصے تک جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں: کینیڈا: پاکستانی کی 100 ڈالر ٹپ نے بھارتی نوجوان کی زندگی بدل دی
انہوں نے کہا کہ گرمیوں کا سیزن ہے اور ایئر لائن نہیں چاہتی کہ وہ کروڑوں ڈالر کا نقصان برداشت کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئر کینیڈا ایئر کینیڈا ہڑتال کینیڈا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئر کینیڈا کینیڈا ایئر کینیڈا
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔