دریاؤں کے اطراف دفعہ 144 نافذ کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
کلیم اختر: چیئرمین کابینہ کمیٹی ڈیزاسٹرمینجمنٹ خواجہ سلمان رفیق کی زیرصدارت اجلاس،دریاؤں کے اطراف دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا ۔
اجلاس میں قائم مقام چیف سیکرٹری پنجاب احمد رضا سرور اور ریلیف کمشنر نبیل جاویدکی شرکت کی، ویڈیو لنک کے ذریعے سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر، سیکرٹری اری گیشن، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز بھی شریک ہوئے۔
صوبائی وزیر کا پی ڈی ایم اے کنٹرول روم کا معائنہ کیا، پوٹھوہار کے لیے بھیجے جانے والے امدادی سامان کا جائزہ لیا، اجلاس میں ممکنہ طوفانی بارشوں، فلیش فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
جعلی ادویات کا خاتمہ، 2D بارکوڈ نظام پر عمل درآمد کیلئے اہم اجلاس طلب
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا سمیت دیگر حکام نے موجودہ صورتحال پر اجلاس کو آگاہ کیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر میں دریاؤں کے بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کیا جائے گا، ریلیف کیمپس قائم رہیں گے۔
قائم مقام چیف سیکرٹری کا کہنا تھا دریاؤں کے اطراف موجود آبادیوں کے انخلا ءکو یقینی بنایا جا رہا ہے، ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق دریاؤں کے اطراف دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے ندی نالوں کے اطراف آبادیوں کو خطرات سے آگاہ کرنےاور مری، گلیات میں غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی۔
باجوڑ؛ دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے پیشِ نظر کرفیو نافذ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: دریاؤں کے اطراف
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔