پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے مختلف اضلاع میں سیلاب آ گیا، درجنوں دیہات سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، فصلیں تباہ ہو گئیں، مساجد میں نقل مکانی کے اعلانات ہو رہے ہیں، ریسکیو نے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے۔دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث ضلع قصور کے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں، جب کہ درجنوں علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔پی ڈی ایم اے قصور کے مطابق گنڈا سنگھ والا ہیڈ سے پانی کا اخراج 75 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے، آج صبح 6 بجے دریائے ستلج کی کیکر پوسٹ پر پانی کی سطح 19.

60 فٹ ریکارڈ کی گئی۔پی ڈی ایم اے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہریکے ہیڈورکس سے مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ظفروال کے مقام پر نالہ ڈیک میں اونچے درجے کا سیلاب آ گیا، نالہ ڈیک میں 22ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے ، 30ہزار کیوسک پانی گزرنے کی گنجائش ہے۔گاؤں لہڑی کلاں، دیولی میں پانی داخل ہو گیا، متعدد کھیت اور گھر زیر آب آ گئے، ریسکیو 1122 نے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت سے نمٹنے کے لیے 4 فلڈ ریلف کیمپ قائم کر دیے ہیں، نالہ ڈیک سکروٹ، لہری، دیولی اور کنگرہ کے مقام پر فلڈ ریلف کیمپ قائم کئے ہیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق نالہ ڈیک کے قریب بسنے والے دیہاتوں میں فلڈ وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

بہاولنگر کے مقام پر دریائے ستلج کے بند ٹوٹ گئے ، پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144نافذ کر دی گئی۔دریائے ستلج میں موضع توگیرہ شریف، ماڑی میاں صاحب چک بھٹیاں، راجیکا کے علاقوں میں متعدد چھوٹے بند ٹوٹنے سے پانی فصلوں میں داخل ہو گیا، پانی کے بڑے سیلابی ریلے سے ملحقہ آبادیوں کا ڈوب جانے کا خدشہ ہے، پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے کٹاؤ کا عمل بھی جاری ہے، دریائی پٹی میں ریسکیو کی امدادی ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہچانے میں متحرک ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: دریائے ستلج پانی کی سطح میں پانی

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دریائے راوی میں بلوکی بیراج کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ
  • سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا