پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند، درجنوں دیہات سے زمینی رابطہ منقطع
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے مختلف اضلاع میں سیلاب آ گیا، درجنوں دیہات سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، فصلیں تباہ ہو گئیں، مساجد میں نقل مکانی کے اعلانات ہو رہے ہیں، ریسکیو نے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے۔دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث ضلع قصور کے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں، جب کہ درجنوں علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔پی ڈی ایم اے قصور کے مطابق گنڈا سنگھ والا ہیڈ سے پانی کا اخراج 75 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے، آج صبح 6 بجے دریائے ستلج کی کیکر پوسٹ پر پانی کی سطح 19.
بہاولنگر کے مقام پر دریائے ستلج کے بند ٹوٹ گئے ، پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144نافذ کر دی گئی۔دریائے ستلج میں موضع توگیرہ شریف، ماڑی میاں صاحب چک بھٹیاں، راجیکا کے علاقوں میں متعدد چھوٹے بند ٹوٹنے سے پانی فصلوں میں داخل ہو گیا، پانی کے بڑے سیلابی ریلے سے ملحقہ آبادیوں کا ڈوب جانے کا خدشہ ہے، پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے کٹاؤ کا عمل بھی جاری ہے، دریائی پٹی میں ریسکیو کی امدادی ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہچانے میں متحرک ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دریائے ستلج پانی کی سطح میں پانی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :