گھر بنا کر، بستیاں بسا کر دینگے، جس کا جتنا نقصان ہوا، حکومت دیگی: علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ گھر بنا کر دیں گے، بستیاں بسا کر دیں گے، وعدہ کرتا ہوں جس کا جتنا نقصان ہوا ہے حکومت دے گی۔
سوات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے شہریوں کے مالی نقصان کا ازالہ کریں گے، سیلاب سے تباہ گھروں کو دوبارہ تعمیر کریں گے۔
وزیرِ اعلیٰ کے پی کا کہنا ہے کہ آبادیوں کو پانی کے راستوں سے ہٹا کر دوسرے مقامات پر نئی بستیاں آباد کریں گے، برس ہا برس سے لوگ پانی کے قدرتی راستوں پر گھر اور دکانیں بنا رہے ہیں، ڈی آئی خان میں تجاوزات کے خلاف مثالی آپریشن ہوا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ ہمارے پاس دنیا میں استعمال ہونے والے موسم پروجیکٹرز کی نسبت بہت اچھا سسٹم ہے،
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ تجاوزات آج سے نہیں سال ہا سال سے لوگ بنا رہے ہیں، وقت کے ساتھ ندی نالوں کی صفائی نہیں کی گئی، جب پانی کو جگہ نہیں ملتی تو وہ باہر نکل کر زیادہ نقصان کرتا ہے، بونیر میں بیچ و بیچ ایسی مارکیٹ تھی جس کے ہٹانے پر عدالت سے اسٹے آرڈر آ گیا، اگر بونیر میں وہ مارکیٹ ہٹا دی جاتی تو شاید اتنا بڑا نقصان نہیں ہوتا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ تجاوزات قائم کر کے کیا آپ رزق حلال کما رہے ہیں؟ قبضوں سے گریز کریں، جب وارننگ دیتے ہیں کہ آپ یہاں سے ہٹ جاؤ تو وقت پر نہیں ہٹتے، عدالت چلے جاتے ہیں، جنہوں نے تجاوزات قائم کی ہیں، انہیں سزائیں بھی دیں گے، لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تجاوزات نہ بھی ہوں تب بھی ایسی صورتِ حال ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر محکمے نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا ہے، متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹر بھی پہنچائے، امداد بھی پہنچائیں، سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ازالہ کرنا ہے، سب سے پہلے عوام کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے گا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت ہمارے لیے کچھ کر کے احسان نہیں کرے گی، یہ وفاق کی ذمے داری ہے، مجھ سے وفاق اور تمام صوبائی حکومتوں نے رابطہ کیا ہے، تعاون کا یقین دلایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔