بھکر میں سیلابی صورتحال خطرناک؛ ہائی الرٹ جاری ،دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
سٹی 42: بھکر میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا
اس وقت دریائے سندھ میں 4 لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھنے پر نشیبی علاقوں سے عوام اور مال مویشیوں کے انخلاء کی ہدایت کردی گئی ، ڈپٹی کمشنر محمد اشرف نے کہا ہے ندی نالوں، دریاؤں، نہروں میں نہانے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ العمل ہے، تیراکی سمیت دریائی پتنوں پر کشتی رانی پر پابندی عائد کی گئی
پاک بھارت جنگ کے واقعات کا عینی شاہد ؛ بھارت کی ہر حرکت وقت سے پہلے ہمارے پاس تھی؛ محسن نقوی
ڈپٹی کمشنر محمد اشرف بھکر نے کہا خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی ،سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 سمیت متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، نشیبی علاقوں کے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے لئے مساجد میں اعلانات کروائے جا رہے ہیں، فلڈ ریلیف کیمپوں میں ویکسین، ادویات، جانوروں کے لیے چارہ اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے عوام الناس کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک ہے
متاثرین کی بحالی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے؛ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک