موجودہ آئین کو چھیڑا گیا تو نیا بنانا مشکل ہو گا: نیئر حسین بخاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
نیئر بخاری—فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں سیاسی قیادت کو ہی مذاکرات کرنے چاہئیں، موجودہ آئین کو چھیڑا گیا تو نیا آئین بنانا مشکل ہو گا۔
اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنی ہے تو پھر عدلیہ بھی اسٹیک ہولڈر ہے۔
پی پی رہنما نے کہا کہ عام انتخابات میں کسی جماعت کی اکثریت نہیں تھی، ہم نے زیادہ نشستیں رکھنے والی پارٹی کو حکومت سازی کا کہا۔
انہوں نے کہا کہ 1973ء کا آئین متفقہ ہے، سب کے دستخط ہیں، آج نئے سماجی معاہدے کی بات ہو رہی ہے، موجودہ آئین کو چھیڑا گیا تو نیا آئین بنانا مشکل ہو گا۔
نیئر بخاری نے کہا کہ آپ اسی آئین میں ترمیم لا سکتے ہیں، آئین کے تحت ریاست کے اختیارات منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ دہشت گرد پنجاب اور کے پی بارڈر پر مرکزی شاہراہوں پر رقص کر رہے ہیں، ہم سیکیورٹی اسٹیٹ بن گے ہیں، مشرقی اور مغربی بارڈرز کی صورتِ حال سامنے ہے۔
پی پی رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ نارمل صورتِ حال نہیں، ہمیں سیکیورٹی اداروں کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں، افغانستان کے ساتھ ہونے والی تمام بات چیت ریاستی سطح پر ہونی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔