Express News:
2026-07-24@01:10:45 GMT

27 ویں ترمیم کا نیا مسودہ منظوری کےلیےسینیٹ کو موصول

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

 

ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے،  جس میں آج 27 ویں ترمیم کا نیا مسودہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی سے منطور کردہ 27ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ کو موصول ہوگیا ہے، قومی اسمبلی سے منظور کردہ بل 56 شقوں پر مبنی ہے۔

سینیٹ میں 56 نکات والا بل پیش ہوگا، سینیٹ میں 8 شقوں کی منظوری دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور

ستائیسویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 255 میں ترمیم کو حذف کردیا گیا، آرٹیکل 214،آرٹیکل 168 کی شق دو میں ترمیم بھی حذف کردی گئی، آرٹیکل 42 میں ترمیم بھی حذف کر دی گئی،  چاروں ترامیم کی ستائیسویں آئینی ترمیم میں سینیٹ نے منظوری دی تھی۔

قومی اسمبلی نے اضافی ترامیم کے ذریعے ان کو حذف کیا،  آرٹیکل 6 کی شق ٹو اے،آرٹیکل 10 کی شق ٹو اے میں ترمیم کی گئی۔

آرٹیکل 176 اور آرٹیکل 260 میں اضافی ترامیم کی گئیں، اضافی ترامیم میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو واضح کیا گیا۔

آرٹیکل 6 کی شق 2اے میں وفاقی آئینی عدالت کو شامل کیا گیا، قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم میں 8اضافی ترامیم کی گئیں تھی۔

اضافی ترامیم کو سینیٹ سے منظور کروایا جائیگا، قومی اسمبلی نے سینیٹ سے منظور 4ترامیم کو حزف 3میں اضافی ترمیم کیں۔قومی اسمبلی نے آرٹیکل 6کی شق 2اے میں نئی ترمیم کو بھی منظور کیا۔

اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج دوپہر کو طلب کیا گیا ہے جس میں کابینہ آئینی ترامیم کی روشنی میں قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دے گی۔

گزشتہ روز 27 ویں آئينی ترمیم قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی، 27 ویں ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس درکار 224 سے زیادہ 234 ارکان موجود تھے تاہم جے یو آئی ف نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن