سیاستدانوں کے اپنے فیصلے خود کرنے تک ملک نہیں چلے گا: بلاول
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار+نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی میں چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے 27ویں ترمیم پر اظہار خیال کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کسی کا باپ بھی 18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا۔ پاکستان کی افواج کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام یہ نہیں وہ اپنے لیڈر کا رونا روئے، اپوزیشن کا کام حکومت کا احتساب کرنا ہے۔ اپوزیشن کو چاہئے تھا وہ کمیٹی میں بیٹھتی۔ میثاق جمہوریت میں کیے وعدے پورے کرنے جا رہے ہیں۔ اس آئینی ترمیم کے بعد کوئی سوموٹو نہیں ہوگا۔ اس ترمیم کے بعد کوئی جج اپنی مرضی سے ازخود نوٹس نہیں لے گا۔ پاکستان نے دہشتگردی اور بحرانوں سے نکلنا ہے تو چارٹر آف ڈیموکریسی کے دیگر حصوں پر بھی عمل کرنا پڑے گا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن احتجاج کرے مگر سیاسی میدان نہ چھوڑے۔ جب تک سیاستدان اپنی قسمت کے فیصلے خود نہیں کریں گے ملک نہیں چلے گا۔ سوموٹو کی تلوار ہر حکومت پر لٹکائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کا جو ڈرافٹ ہمیں دیا گیا اس میں کہا گیا کہ این ایف سی کو جو پروٹیکشن دیا گیا ہے اس کو ختم کیا جائے، ہم نے اس کی مخالفت کی۔ ہم سب چاہتے ہیں ملک معاشی مشکلات سے نکلے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔(جاری ہے)
منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔