Juraat:
2026-06-03@04:44:16 GMT

18ویں ترمیم کسی کاباپ ختم نہیں کرسکتا، بلاول بھٹو

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

18ویں ترمیم کسی کاباپ ختم نہیں کرسکتا، بلاول بھٹو

اپوزیشن کا کام یہ نہیں وہ اپنے لیڈر کا رونا روئے،بلاول بھٹو کی قومی اسمبلی میں تقریرکے دوران اپوزیشن اراکین نے ترمیم کی کاپیاں پھاڑ کر اڑانا شروع کردیں

اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہوا جس میں پیپلز پارٹی کے چیٔرمین بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔قومی سمبلی اجلاس کے آغاز پر اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش دھماکے کے شہدا کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایوان جوڈیشل کمپلیکس خد کش دھماکے کی مذمت کرتا ہے۔چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے 27ویں ترمیم پر اظہار خیال کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج کیا، اپوزیشن اراکین نے ترمیم کی کاپیاں پھاڑ کر اڑانا شروع کردیں، اپوزیشن اراکین نے ایوان میں اذانیں دینا شروع کردیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کسی کا باپ بھی 18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا، پاکستان کی افواج کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے، جوعبرت ناک شخص مودی کو دی، بھارتی جہاز گرانے پر دنیا میں طاقت ملی، اس اقدام کی وجہ سے فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا، 27ویں آئینی ترمیم میں اس کو شامل کیا جس کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام یہ نہیں وہ اپنے لیڈر کا رونا روئے، اپوزیشن کاکام ہے حکومت کا احتساب کرنا ہے، اپوزیشن کو چاہئیے تھا وہ کمیٹی میں بیٹھتی، میثاق جمہوریت میں کیے وعدے پورے کرنے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت کے نامکمل وعدوں کی تکمیل یقینی بنا رہے ہیں، دہشتگردی کو ختم کرنا ہوگا، دہشتگرد پھر سر اٹھا رہے ہیں، ہم نے دہشتگردوں کو پہلے بھی شکست دی، ایک بار پھر ان کو شکست دیں گے۔ایک سال پہلے 26ویں آئینی ترمیم ہوئی، کوشش کی کہ متفقہ طور پر آئیں سازی ہو، ہم نے دن رات محنت کی اور آئینی بینچز بنے، ہمارے سیاسی اور نظریاتی اختلاف ہوسکتے ہیں، ہم فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دینے کا رہے ہیں، اپوزیشن کا کام اپنے لیڈر کو رہا کروانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس آئینی ترمیم کے بعد کوئی سو موٹو نہیں ہوگا، اس ترمیم کے بعد کوئی جج اپنی مرضی سے ازخود نوٹس نہیں لے گا، پاکستان نے دہشتگردی اور بحرانوں سے نکلنا ہے تو چارٹر آف ڈیمو کریسی کے دیگر حصوں پر بھی عمل کرنا پڑے گا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن احتجاج کرے مگر سیاسی میدان نہ چھوڑے، جب تک سیاستدان اپنی قسمت کے فیصلے خود نہیں کرینگے ملک نہیں چلے گا، سوموٹو کی تلوار ہر حکومت پر لٹکائی گئی۔چیٔرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف محنت کر رہے ہیں ڈلیور بھی کر رہے ہیں، محمود خان اچکزئی کو ماننا پڑے گا، جب تک سیاستدان اپنی قسمت اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے تب تک نا یہ ایوان ٹھیک چلے گا نا یہ ملک، اپوزیشن اپنا احتجاج کریں لیکن ایوان کو چن لیں، سیاسی عمل چلتے رہنا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کا جو ڈرافٹ ہمیں دیا گیا اس میں کہا گیا کہ این ایف سی کو جو پروٹیکشن دیا گیا ہے اس کو ختم کیا جائے، ہم نے اس کی مخالفت کی، ہم سب چاہتے ہیں ملک معاشی مشکلات سے نکلے، حکومت کو ہمارے ساتھ انگیج کرنا چاہئے، میں حکومت کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہوں۔جب سے صوبائی حکومتوں کو چند ٹیکس ملنے کے اختیارات ملے ہیں صوبوں کی ٹیکس جمع کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے، ہم یہ بات کریں گے صوبے وفاق سے کیا اختیار کے سکتے ہیں، اگر وفاقی ادارے ٹیکس اکٹھا کرنے میں ناکام رہے ہیں تو اس کی سزا صوبوں کو نا دیں۔آپ صوبوں کو ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیں ہم آپ کو بہتر پرفارمنس دیں گے، پاکستان پیپلزپارٹی نے 18ویں ترمیم پاس کروایا ہم نے صوبوں کو اختیار دیدیا، وفاق کو مظبوط بنایا۔ملک میں جو دہشتگردی ہورہی ہے ان کو کہتا ہوں وہ ایسے کام نا کریں جو ملک دشمن قوتوں کیخلاف ہوتے ہیں، ماہرین آپ کو بتائیں گے سندھ میں بلدیاتی نمائندوں کو زیادہ اختیارات دئیے گئے۔جنوبی پنجاب پر اس اسمبلی اور صوبوں نے اتفاق رائے ہوا ہے، پیپلزپارٹی اس کو آگے بڑھانے کو تیار ہے، وزیراعظم کے ساتھ بیٹھیں گے اور الیکشن کمیشن کے حوالے سے جو معاملات ہیں ان پر بات کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو اپوزیشن کا نے کہا کہ رہے ہیں

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو