آئی ایم ایف نے پاکستان سے مزید مطالبات کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی ایم ایف نے اپنی نئی رپورٹ میں مزید مطالبات کردیئے، وفاقی سیکرٹری خزانہ کو سٹیٹ بینک بورڈ سے نکالنے اور ڈپٹی گورنرز کی خالی اسامی فوری پُر کرنے اور کمرشل بینکوں کی نگرانی میں حکومتی اختیارات ختم کرنے کی سفارش کردی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق آئی ایم ایف نے گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسز اسیسمنٹ رپورٹ میں مزید مطالبات پیش کر دیئے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو مزید خود مختاری دینے پر زور دیتے ہوئے سٹیٹ بینک ایکٹ میں مزید تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔ آئی ایم ایف نے وفاقی سیکرٹری خزانہ کو سٹیٹ بینک بورڈ سے نکالنے کی سفارش بھی کردی۔
سابق ایم پی اے احمد خان بھچر کی نااہلی کیخلاف درخواست پر سماعت22اگست تک ملتوی
آئی ایم ایف کی سٹیٹ بینک کے دو ڈپٹی گورنرز کی خالی اسامیوں پر فوری بھرتی کرنے کی سفارش کرد۔ اس وقت ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک کی تین میں سے دو اسامیاں خالی ہیں۔
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے کمرشل بینکوں کی نگرانی میں حکومتی اختیارات ختم کرنے کی سفارش کردی اور کہا کہ سٹیٹ بینک کی خودمختاری مزید مضبوط بنانا ہوگی۔
حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ان سفارشات پر بات چیت جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایم ایف نے سٹیٹ بینک کی سفارش
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔