دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، آئندہ 24 گھنٹے اہم قرار
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
طاہر جمیل خان: پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر اس وقت نچلے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 53 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 36 ہزار کیوسک ہے اور صورتحال نارمل بتائی جا رہی ہے تاہم آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو، سول ڈیفنس اور محکمہ صحت پوری طرح الرٹ ہیں۔ تحصیل راوی کی اسسٹنٹ کمشنر سیدہ سنبل جاوید نے گزشتہ رات دریائے راوی کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور پیرا فورس کے ہمراہ حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا۔
دریا کے پاٹ میں آباد خانہ بدوش خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔گاو شالہ، مالی پورہ اور سگیاں پل کے اطراف کے علاقے خالی کروالیے گئے، جبکہ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 نے دریا کنارے ایمرجنسی کیمپ قائم کر دیا ہے، جس میں لائف جیکٹس،کشتیاں،لائف لائنز، 12 ارکان پر مشتمل الرٹ ٹیم موجود ہے۔
سول ڈیفنس کی جانب سے بھی حفاظتی اقدامات مکمل ہیں۔ کیمپ میں 4 ہزار لائف جیکٹس موجود ہیں۔محکمہ صحت نے بھی میڈیکل کیمپ قائم کر دیا ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد دی جا سکے۔
پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کوڑا دان کی تنصیب لازمی قرار
پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں کے باعث دریاؤں میں بہاؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس سے نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال درمیانے درجے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دریاؤں اور نالوں کے کناروں پر موجود شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔