ریلوے کو بوگیوں کی شدید قلت، دو ٹرینیں بند کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
سٹی42: پاکستان ریلوے کو ٹرین آپریشن جاری رکھنے کے لیے بوگیوں کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کے باعث دو ٹرینوں کی بندش پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔
شاہ حسین ایکسپریس کراچی جانے والی وی وی آئی پی ٹرین، جو 34 بوگیوں کے ساتھ چلائی جاتی رہی ہے، بند کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔خوشحال خان خٹک ایکسپریس تقریباً 50 بوگیوں کے ساتھ چلنے والی اس ٹرین کی بندش بھی زیر غور ہے۔
پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کوڑا دان کی تنصیب لازمی قرار
ریلوے ذرائع کے مطابق، مسافروں کی کم تعداد اور بوگیوں کی کمی بنیادی وجوہات ہیں۔موجودہ سسٹم میں تقریباً 100 بوگیوں کی قلت کا سامنا ہے، جس سے دیگر ٹرین آپریشنز بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ریلوے حکام نے دونوں ٹرینوں کی مکمل بندش کے حوالے سے ہیڈکوارٹر میں مشاورت شروع کر دی ہے تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔یہ صورتحال ریلوے کے مجموعی آپریشنز پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے جبکہ مسافروں کو متبادل سفری سہولیات کے لیے دیگر ٹرینوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔
چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس، مقدمات کے فیصلوں کیلئے سخت، تیز رفتار ٹائم لائنز مقرر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔