پاکستان ایک آزاد ملک، قرضوں میں نہیں پھنسنا چاہیے: امریکی ناظم الامور
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹیلی اے بیکر نے کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اسے کسی ملک کے قرضوں کے چنگل میں نہیں پھنسنا چاہیے، پاکستان کو اپنے نجکاری پروگرام پر بھرپورعمل کرنا چاہیے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے ایوانِ صدر میں اخبار نویسوں سے غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے اصلاحاتی پروگرام پر مکمل عملدرآمد سے ہی پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی کامیاب ہوگی، آئی ایم ایف پاکستان میں ایسی معاشی اصلاحات چاہتا ہے جو اسے بہتر اور پائیدار معیشت بنانے کا باعث بنیں، ورلڈ بینک بھی پاکستان کے ساتھ موثر اندازمیں تعاون کر رہا ہے۔
پیپلزپارٹی کا 30 نومبر کو ضلعی سطح پر یوم تاسیس منانے کا اعلان
انہوں نے کہا ہے کہ میں پاکستان کے مختلف شہروں میں جا چکی ہوں، ابھی میں آزاد کشمیر نہیں گئی، میں جانا چاہتی ہوں، پاکستان کے ساتھ امریکا کا پہلے ہی اقتصادی میدان میں تعاون بہت اچھا چل رہاہے، پاکستان کی خودمختاری امریکا کے لیے نہایت اہم ہے اور امریکا بڑے دل سے پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔
پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے، جو دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات رکھ سکتا ہے لیکن اسے اپنی معاشی خودمختاری اور مفادات کا محتاط انداز میں تحفظ کرنا ہوگا، کوئی بھی ایسا منصوبہ جو کسی بھی ملک کے لیے قرض کے جال ( Trap Debt) کا باعث بنے پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جج کی 27 ویں ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت
نیٹلی اے بیکر نے مزید کہا ہے کہ واشنگٹن کو پاکستان اور چین کے تعلقات کی حساس نوعیت کا مکمل ادراک ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جیسے ہی اپنی مصروف بین الاقوامی ذمہ داریوں سے وقت ملا وہ پاکستان کا دورہ کریں گے، یہ دورہ جلد متوقع ہے، صدر ٹرمپ امن کے داعی ہیں اور پاکستان نے ان کے نام کو نوبل انعام کے لیے درست طور پر تجویز کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان کے پاکستان ا کہا ہے کہ کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔