Islam Times:
2026-06-02@22:51:33 GMT

جل کر راکھ ہو چکا امریکی مہرہ

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

جل کر راکھ ہو چکا امریکی مہرہ

اسلام ٹائمز: ٹرمپ کے ساتھ آخری ملاقات میں زلنسکی نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ وہ صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کے درمیان یوکرین جنگ یا جنگ بندی کے بارے میں ہونیوالی گفتگو کے پسِ پردہ معاملات اور خفیہ نکات سے بے خبر رکھے گئے ہیں۔ لیکن ٹرمپ نے سختی سے جواب دیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ یہ مسئلہ یوکرین کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ خصوصی رپورٹ: 

زلنسکی نہ صرف امریکہ کی متضاد پالیسیوں کے جال میں پھنس چکے ہیں، بلکہ اب وہ وائٹ ہاؤس کے عجلت میں کیے گئے فیصلوں اور واشنگٹن کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کے مستقل خوف میں زندگی گزار رہا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے اخبار گارڈین سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقاتیں دوستانہ تھیں اور ان میں کوئی تنازع یا تناؤ نہیں تھا، اور بنیادی طور پر انہیں یعنی زلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

لیکن زلنسکی کا یہ تازہ دعویٰ کئی زاویے رکھتا ہے جنہیں آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ معاصر یوکرین کی تاریخ میں ولادیمیر زلنسکی کا نام سب سے زیادہ اس تصور کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ وہ ایسا صدر ہے جو امریکہ کی دو بڑی سیاسی قوتوں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان فٹ بال بنا رہا، اور آخرکار واشنگٹن کی جیوپولیٹیکل شطرنج میں ایک مدت کے بعد ختم شدہ اور غیر مؤثر مہرہ بن کر رہ گیا۔

زلنسکی جب اقتدار میں آیا تو اس نے قومی خودمختاری اور یوکرین کی تعمیرِ نو کے وعدوں کے ساتھ سیاسی میدان میں قدم رکھا، مگر جو راستہ اس نے چُنا، وہ اسے ایک ایسے دلدل میں لے گیا جو عالمی استعمار نے اس کے لیے پہلے سے تیار کر رکھی تھی۔ زلنسکی نہ صرف امریکہ کی متضاد پالیسیوں کا شکار ہوا، بلکہ اب وہ وائٹ ہاؤس کے عجلت پسندانہ فیصلوں اور واشنگٹن کے بدلتے مؤقف کے مستقل خوف میں جی رہا ہے۔ 

یہ خوف خاص طور پر اُس وقت بڑھا جب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکہ کی سیاسی دوڑ میں سامنے آئے اور انہوں نے صدارتی انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ ٹرمپ علانیہ طور پر زلنسکی کو ایک جل کر راکھ ہو چکا مہرہ سمجھتے ہیں، ایسا مہرہ کہ جو اب یوکرین کی جنگ کے منظرنامے میں اپنا کردار پورا کر چکا ہے اور مزید امریکی مفادات کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ لیکن زلنسکی کو اور راگنی الاپ رہے ہیں۔

زلنسکی کا ’’سب سے بڑا جھوٹ‘‘، خصوصاً اپنی آزاد خارجہ پالیسی اور ٹرمپ سے نہ ڈرنے کے حوالے سے، اس المیے کی ایک المناک تصویر ہے، وہ بارہا دعویٰ کرتا رہا کہ اس نے یوکرین کو نیٹو میں شمولیت کی دہلیز تک پہنچا دیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے اپنے اتحادی تک کییف اور یوکرین کے بڑے شہروں کے اوپر نو فلائی زون بنانے پر بھی آمادہ نہ ہوئے تاکہ شہریوں کی جان بچائی جا سکے۔

مغرب کی یہ بے عملی دوبارہ ثابت کرتی ہے کہ یوکرین اس کھیل میں پھنس چکا ہے، جس کے قواعد خود اس نے نہیں بلکہ دوسرے طے کرتے ہیں۔ آج کییف اُس آگ میں جل رہا ہے جو زلنسکی نے رضاکارانہ طور مغربی وابستگی اپنا کر خود بھڑکائی تھی۔ یوکرین کے عوام دراصل ایسے حکمران چاہتے ہیں جو بیگانی طاقتوں پر انحصار چھوڑ کر حقیقی معنوں میں قومی خودمختاری بحال کریں، لیکن یہ امید زلنسکی کی ذاتی پالیسیوں کے سائے تلے ماند پڑ چکی ہے۔

یوکرین کے موجودہ صدر زلنسکی نے اپنی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ آخری ملاقات میں اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ وہ یعنی خود زلنسکی اور کییف کے دیگر اعلیٰ حکام امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان یوکرین جنگ یا جنگ بندی کے بارے میں ہونیوالی گفتگو کے پسِ پردہ معاملات اور خفیہ نکات سے بے خبر رکھے گئے ہیں۔ لیکن ٹرمپ نے سختی سے جواب دیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ ’’یہ مسئلہ یوکرین کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا!‘‘ ٹرمپ کے اسی جملے سے زلنسکی جھوٹ بھی ثابت ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یوکرین کے امریکہ کی ٹرمپ کے کے ساتھ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود