مقررین نے اپنے خطاب میں جی ایم سکندر مرحوم کے بارے میں اظہار خیال کیا کہ وہ انتہائی درد دل رکھنے والے غریبوں اور مسکینوں کے مسائل حل کرنیوالے، ایک مثالی، دیندار اور انتہائی شریف بیوروکریٹ تھے۔ انہوں نے 10 سال کے درمیاں 5 وزرائے اعلی کیساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کیا جو خود ایک ریکارڈ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ممتاز سابق بیوروکریٹس جی ایم سکندر شگری مرحوم کیلئے مجلس ترحیم و قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ مسجد و امام بارگاہ کاروان ابوطالب بلتستانیہ لاہور میں قران خوانی اور مجلس ترحیم کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد اور اہالیان لاہور نے شرکت کی۔ تقریب سے آغا مبارک موسوی اور مولانا فرمان علی نجفی نے خطاب کیا۔ مجلس ترحیم میں جی ایم سکندر مرحوم کے بیٹوں نے بھی شرکت کی۔

مقررین نے اپنے خطاب میں جی ایم سکندر مرحوم کے بارے میں اظہار خیال کیا کہ وہ انتہائی درد دل رکھنے والے غریبوں اور مسکینوں کے مسائل حل کرنیوالے، ایک مثالی، دیندار اور انتہائی شریف بیوروکریٹ تھے۔ انہوں نے 10 سال کے درمیاں 5 وزرائے اعلی کیساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کیا جو خود ایک ریکارڈ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جی ایم سکندر کی وفات پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ ان کی وفات سے نہ صرف ان کے علاقے بلتستان کی فضا سوگوار ہے بلکہ اہالیان لاہور کے دل بھی اداس ہیں۔  مرحوم کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جی ایم سکندر

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا