چین کی شنگھائی تعاون تنظیم ممالک سے رواں برس تجارت 293.18 ارب ڈالر تک پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, August 2025 GMT
بیجنگ:
چین کی وزارت تجارت نے بتایا ہے کہ حالیہ برسوں میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) نے علاقائی اقتصادی تعاون میں نئی پیش رفت کی ہے اور رواں سال جنوری سے جولائی تک ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ تجارتی حجم 293.18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
چین کے میڈیا کے مطابق گزشتہ 5 سال میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ چین کی تجارت کا حجم یکے بعد دیگرے 300 ارب ڈالر، 400 ارب ڈالر اور 500 ارب ڈالر سے تجاوز کرتے ہوئے 2024 میں 512.
بیان میں کہا گیا کہ چین کی 2024 میں دیگر رکن ممالک سے ای کامرس درآمدات میں سال بہ سال 34 فیصد اضافہ ہوا اور ای کامرس چینلز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اعلیٰ معیار کی اسپیشلٹی مصنوعات چینی مارکیٹ میں داخل ہوئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ رکن ممالک میں سرمایہ کاری، اقتصادی اور تکنیکی تعاون بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق رواں سال جولائی تک ایس سی او کے دیگر رکن ممالک میں چین کی جانب سے مختلف صنعتو ں میں براہ راست سرمایہ کاری 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ سرمایہ کاری کے منصوبے آہستہ آہستہ روایتی شعبوں سمیت توانائی، معدنیات اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے ڈیجیٹل معیشت اور سبز ترقی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کی جانب پھیل رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رکن ممالک ارب ڈالر چین کی
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔