کراچی، گورنر سندھ کی ہدایت پر نبی اکرم ﷺ کے 1500 ویں یومِ ولادت کی تیاریاں شروع
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
کراچی:
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی ہدایت پر نبی اکرم ﷺ کے 1500ویں یومِ ولادت کو شایانِ شان منانے کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔
گورنر ہاؤس میں یکم سے 12 ربیع الاول تک روزانہ حمد و نعت اور قوالی کی روح پرور محافل کا اہتمام کیا جائے گا۔
گورنر ہاؤس کے ترجمان کے مطابق جید علمائے کرام محافل میں حضور ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر روشنی ڈالیں گے۔ ان محافل کا مقصد نہ صرف حضور ﷺ کی تعلیمات کو اجاگر کرنا ہے بلکہ امت مسلمہ کو آپ ﷺ کی روشنی سے بہرہ مند کرنا بھی ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ گورنر ہاؤس کی عمارت کو برقی قمقموں سے سجایا جا رہا ہے اور اسٹیج کی تیاری بھی آخری مراحل میں ہے۔
اس حوالے سے تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ اس بابرکت موقع کو باوقار طریقے سے منایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘