حزب اللہ کو غیرمسلح کرنا؛ اسرائیل نے لبنان کو لبھانے کیلیے پُرکشش پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے لبنان کو پوری مدد فراہم کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے اپنی فوجیں لبنانی چوکیوں سے واپس بلانے کا عندیہ بھی دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان کی خودمختاری کی بحالی اور ریاستی اداروں کی بالادستی کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
بیان میں یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لبنانی فیصلے کے حق میں ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل کیلئے تعاون پر آمادہ ہیں۔
اسرائیل نے نہ صرف حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرنے کا اعلان کیا بلکہ اس کے بدلے میں مرحلہ وار اپنی فوج کو جنوبی لبنان کی چوکیوں سے واپس بلانے کا بھی عندیہ دیا۔
وزیراعظم ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ اگر لبنانی فوج ضروری اقدامات اٹھا کر حزب اللہ کو غیر مسلح کرتی ہے تو اسرائیل امریکا کی قیادت میں بننے والے سیکیورٹی میکنزم کے ساتھ ہم آہنگی میں فوجی انخلا کے اقدامات کرے گا۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب نو ماہ قبل نومبر 2024 میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک سال طویل سرحدی لڑائی کے بعد جنگ بندی معاہدہ طے پایا۔
یاد رہے کہ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے پانچ اہم مقامات پر موجود ہیں اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام نے رواں ماہ امریکا کی تجویز کردہ منصوبے کو منظور کر لیا جس کے تحت حزب اللہ کو رواں سال کے آخر تک غیر مسلح کیا جانا ہے۔
تاہم ایران نواز یہ تنظیم جو لبنان کی ایک بڑی سیاسی جماعت بھی ہے پہلے ہی اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کا اعلان کرچکی ہے۔
حزب اللہ کے حامیوں نے حالیہ دنوں بیروت میں سڑکوں پر جلاؤ گھیراؤ کر کے حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔
امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیراک نے حالیہ دنوں بیروت اور یروشلم کا دورہ کیا اور کہا کہ اسرائیل کو جنگ بندی کے تحت اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے۔ لبنان نے پہلا قدم اٹھا لیا۔ اب وقت ہے کہ اسرائیل بھی مکمل انخلا کرے۔
امریکا نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں ’’غیر ضروری‘‘ فوجی کارروائیاں روک دے کیونکہ اس سے بیروت کی حکومت کے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ پر 500 سے زائد فضائی حملوں میں 230 سے زائد مزاحمت کاروں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کو غیر مسلح کرنے کے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔