کراچی:

پیر آباد پولیس نے ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور تمام سیکیورٹی فورسز کے خلاف نعرے بازی، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس پر لاٹھیوں، ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کرنے کے الزام میں پی ٹی آئی کے علاقائی عہدیدار سمیت 20 افراد کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار افراد کے خلاف دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمے میں 80 دیگر نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق تھانہ پیرآباد کے ایس ایچ او انسپکٹر امین احمد شیخ مع ملازمین سب انسپکٹر علی نواز، کانسٹیل کامران، کانسٹیبل اسامہ اور ڈرائیور کانسٹیبل اسماعیل بذریعہ موبائل سرکاری نمبر SPC-803 کے 24 اگست کو علاقہ گشت و انسداد جرائم میں مصروف تھا کہ دوران گشت انٹیلی جنس اسٹاف نے بذریعہ فون اطلاع دی کہ پی ٹی آئی کے علاقائی سربراہ سعید آفریدی خیبر پختونخوا بالخصوص باجوڑ میں دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالفت، اداروں اور ریاست کے خلاف بنارس چوک پر اشتعال انگیز احتجاج کریں گے۔

ایس ایچ او انسپکٹر نے اطلاع موصول ہونے پر ایس ایچ او اورنگی ٹاؤن سب انسپکٹر یوسف محمد، ایس ایچ او پاکستان بازار انسپکٹر امام بخش لاشاری، ایس ایچ او اقبال مارکیٹ شیر محمد سانگی اور ایس ایچ او منگھوپیر انسپکٹر غلام نبی بجارانی کو بنارس چوک پر طلب کیا۔

عطا اللہ سعید آفریدی تقریباً 100 افراد کے ہمراہ آئے جنہوں نے لاٹھیاں اور ڈنڈے بھی اٹھا رکھے تھے، انہوں نے ریاست پاکستان اور اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تمام سیکیورٹی فورسز کے خلاف نعرے بازی کی۔

بغیر اجازت احتجاج کرنے پر منع کیا جس پر شرپسند عناصر نے کار سرکار میں مداخلت کرتے ہوئے پولیس پر لاٹھیوں، ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا جس سے کانسٹیبل کامران اور کانسٹیبل حسنین موقع پر زخمی ہوئے جبکہ ملزمان نے سرکاری موبائل نمبر SPC-308 کے پیچھے والی لائٹوں کے شیشے توڑ دیے اور نقصان پہنچایا۔

ایس ایچ او انسپکٹر انیس احمد مع ملازمین نے موقع ہر موجود ایس ایچ اوز و نفری کے ہمراہ نہایت حکمت عملی سے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

ملزمان میں عطا اللہ ولد مولا داد، سعید آفریدی ولد سید غفور، عطا اللہ ولد حکم اللہ، رشید احمد ولد صالح محمد، عمران خان ولد جہانزیب، عمران خان ولد محمد اسماعیل، شعیب ولد میاں بشیر، عبدالجبار ولد شیر علی، وقار حسین ولد محمد حسن، یونس شاہ ولد نعمت میر، عجب کوہستانی ولد حجاب گل، قیوم خان ولد مسافر شاہ، محمد جنید ولد اسلم، نثار ولد گل زرین، عزیز ولد محمد رحیم، حکمت اللہ ولد شیر محمد، یوسف خان ولد محمد زر، نثار ولد صغیر خان، رحمت اللہ ولد امین اللہ، احتشام اللہ ولد خان یوسف شامل ہیں۔

ملزمان کو جرم کی زیر دفعہ 341، 186، 427، 324، 353، 149، 148، 147، R/W 7ATA ت پ کے تحت حسب ضابطہ موقع پر گرفتار کیا گیا جبکہ اندازاً 80 عدم گرفتار نامعلوم کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 418/25 قائم کیا گیا جبکہ زخمی اہلکاروں کو علاج و معالجے کے لیے عباسی شہید اسپتال روانہ کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایس ایچ او اللہ ولد ولد محمد خان ولد کے خلاف کیا گیا

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟