ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ایران کسی بھی قیمت پر واشنگٹن کے دباؤ یا دبنگ رویے کو قبول نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری ایک پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران اس کی اطاعت کرے، لیکن یہ صرف اس کی خام خیالی ہے۔ “ایران نہ کبھی امریکا کی فرمانبرداری کرے گا، نہ ہی اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرے گا،” انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا۔
سپریم لیڈر نے امریکا سے براہ راست مذاکرات کی خواہش رکھنے والوں کو “کم فہم” قرار دیا اور کہا کہ ایسے عناصر زمینی حقائق سے ناواقف ہیں۔ ان کے مطابق دشمن ایران کے اندر اختلافات پیدا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کی یہ سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
خامنہ ای نے مزید انکشاف کیا کہ امریکا نے اسرائیل (صیہونی ریاست) کو ایران پر حملے کے لیے اکسایا اور انہیں ایران کو ختم کرنے کا ٹاسک دیا۔ “امریکا اور اس کے اتحادی اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہے کہ ایران کا جواب ان کے لیے سخت پچھتاوے کا باعث بن سکتا ہے،” انہوں نے خبردار کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران نہ صرف اپنی سرزمین کا بھرپور دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ہر ممکن حد تک دشمنوں کو جواب دینے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ ماضی میں ثابت کیا جا چکا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد تناؤ کم نہیں ہوا، اور عالمی طاقتیں ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اس جنگ کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا صرف اس لیے جنگ میں کودا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اگر مداخلت نہ کی گئی تو اسرائیل مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔ تاہم امریکا کو اس جنگ سے کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
سپریم لیڈر کے حالیہ بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران اپنی پالیسیوں، خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا بیرونی دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

 

Post Views: 20.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خامنہ ای نے ہے کہ ایران ا یت اللہ

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام