بھارتی آبی جارحیت، کرتارپور گردوارہ دربار صاحب سیلاب سے متاثر
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
نارووال (نیوز ڈیسک) بھارت کی جانب سے دریاؤں میں لاکھوں کیوسک پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان کے مختلف علاقے شدید سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں۔ انہی میں نارووال کے قریب واقع سکھوں کا مقدس مقام گردوارہ دربار صاحب کرتارپور بھی شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق سیلابی ریلے نے گردوارہ دربار صاحب کو گھیر لیا ہے، دیواروں اور اردگرد کے حصوں میں پانی داخل ہونے سے مقامی آبادی اور سکھ برادری میں تشویش پھیل گئی ہے۔
پاکستان میں حالیہ بارشوں اور پانی کے غیر معمولی بہاؤ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ کئی اضلاع میں فصلیں برباد ہو گئیں، ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں نے آئندہ دنوں مزید بارشوں اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو گردوارہ سمیت پورا علاقہ خطرے میں آ سکتا ہے۔ سکھ برادری نے حکومت پاکستان اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کرتارپور راہداری اور گردوارہ دربار صاحب کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
???? Raging floodwaters storm into the holy Gurdwara Darbar Sahib #Kartarpur a sanctity drowned, faith shaken.
A brutal chapter in India’s water war against Pakistan, where even sacred ground isn’t spared from destruction. pic.twitter.com/HqV5F04aS0
— Rizwan Shah (@rizwan_media) August 27, 2025
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گردوارہ دربار صاحب
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
19 جولائی سے خیبرپختونخوا میں ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 28 افراد جاں بحق جبکہ 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ
زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فیلش فلڈ سے مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 37 گھروں کو جزوی جبکہ 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
Heavy monsoon rains triggered dangerous flash floods in Khyber District, KP, sweeping away a vehicle. Thanks to the quick action of local residents, the driver was rescued safely.#FlashFlood #Khyber #Pakistan #Monsoon2026 #ClimateAction #StaySafe pic.twitter.com/QoeeY8x1if
— MH ClimateActions (@mhclimateaction) July 23, 2026
یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، اپر کوہستان، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی
پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمرجنسی آپریشن سینٹر بارش پی ڈی ایم اے حساس خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 سیاحتی مقامات سیلاب سیلابی ریلوں فعال فیلش فلڈ موسمی صورتحال